رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 418
418 دیکھتے دیکھتے وہ بلاء عظیم اڑتی ہوئی ہمارے پاس سے آگے کی طرف گزر گئی اور تمام علاقہ کے لوگوں میں شور پڑ گیا کہ اب کیا ہو گاوہ قیامت خیز تو آگئی۔اس وقت میں نے دیکھا کہ مستورات جلدی جلدی کمروں کے اندر گھس گئیں لیکن میں صحن میں ملتا جا رہا تھا میں ٹہل ہی رہا تھا کہ کسی نے باہر سے آواز دی۔میں دروازہ پر گیا تو میں نے دیکھا کہ دو کشتیاں دروازہ کے پاس کھڑی تھیں لیکن وہاں کوئی پانی نہیں اور کشتیوں کے نیچے چھوٹے چھوٹے پیتے ہیں ایسے چھوٹے جیسے بعض ٹرائی سائیکلوں کے اگلے پیئے چھوٹے ہوتے ہیں بلکہ ان سے بھی کچھ چھوٹے۔مجھے دیکھ کر جو کشتی میں بیٹھے ہوئے آدمیوں کا افسر تھا اس نے کہا آپ اور آپ کے ساتھی کشتیوں میں بیٹھ جائیں یہ آپ کے لئے بھجوائی گئی ہیں تاکہ آپ ان میں بیٹھ کر محفوظ مقام پر چلے جائیں اور اس جگہ کا نام اس نے سٹیشن لیا۔گویا پاس کوئی سٹیشن ہے جس پر جانے سے اس کے نزدیک نسبتی طور پر حفاظت حاصل ہو جاتی ہے مجھے یہ یاد نہ رہا کہ اس نے کس شخص کی طرف منسوب کیا کہ اس نے کشتیاں بھجوائی ہیں۔ہاں یہ یقینی یاد ہے کہ خدا تعالی کی طرف اس نے منسوب نہیں کیا بلکہ کسی انسان کی طرف منسوب کیا ہے۔میں نے اس شخص سے کہا کہ یہاں پانی تو کوئی نہیں۔یہ کشتیاں کس طرح چلیں گی اس نے جواب میں کہا یہ کشتیاں بغیر پانی کے چلتی ہیں ان کشتیوں میں بادبان لگے ہوئے تھے اور ان کے نیچے پہئے لگے ہوئے تھے پہلے میں نے چاہا کہ گھر کے لوگوں اور باقی ساتھیوں کو لے کر ہم کشتیوں میں بیٹھ جائیں اور سٹیشن پر چلے جائیں جسے نسبتا محفوظ کہا جاتا ہے لیکن پھر میرے دل میں خیال آیا کہ سٹیشن پر جانے کا کیا فائدہ ہے اللہ تعالیٰ میں طاقت ہے وہ چاہے تو ہلاء کو ٹلا سکتا ہے۔تب میں نے اس شخص سے کہا کہ میں تو وہاں نہیں جاتا میں تو یہیں رہوں گا اس کے تھوڑی دیر بعد گو مجھے وہ بلاء نظر تو نہیں آتی جو اڑتی ہوئی آئی تھی اور جس کے دو سر تھے لیکن میں نے یوں محسوس کیا کہ گویا وہ بلاء آپ ہی آپ سکڑنے لگ گئی اور چھوٹی ہوئی شروع ہو گئی اس وقت کسی شخص نے آکر مجھے مبارک باد دی اور کہا کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر تو کل کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس بلاء کا اثر ہٹا دیا ہے اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔فرمایا : اس رویا میں بتایا گیا تھا کہ مسلمانوں پر قریب زمانہ میں ایک دوسرے سے پیوستہ دو مصیبتیں آنے والی ہیں اور بظاہر یوں نظر آئیں گی کہ گویا مسلمانوں کو تباہ کر دیں گی لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور ان لوگوں کے طفیل جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کے عادی ہیں ان مصیبتوں