رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 410
410 صاحب مبلغ یہ دونوں نور الحق نامی بندوق لینے کے لئے گئے ہیں۔میں ان کی آمد کا انتظار کر رہا تھا کہ اتنے میں میں نے دیکھا کہ وہ سکھ سوار جو چوک میں کھڑے تھے وہ اپنی سواریوں پر بیٹھے ہوئے رائفلیں لگائے مشرق کی طرف بھاگے چلے جا رہے ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے ایک گڈر بھی ہے جس پر بہتر اور گھر کا سامان وغیرہ معلوم ہوتا ہے۔میں انتظار کی حالت میں ایک عمارت کے برآمدہ میں ٹہلنے لگا اس دوران میں ایک شخص میرے پاس آیا اس کی داڑھی ایسی ہے جیسے مسلمانوں کی داڑھی ہوتی ہے یعنی تراشی ہوئی ہے اور مونچھیں بھی شریعت کے مطابق ہیں اس کی شکل و صورت سے خیال کرتا ہوں کہ کہ غالبا یہ مسلمان ہے۔اس نے مجھے آکر کہا کہ آپ میری امداد کریں وہ لوگ مجھے دق کرتے ہیں کچھ بو تلیں اس کے گھر رکھ جاتے ہیں۔میں خواب میں سوچتا ہوں کہ وہ بوتلیں شاید تیزابی مادہ کی ہوتی ہوں گی یا شراب کی بوتلیں ہوں گی جو لوگ اس کے گھر میں رکھ جاتے ہیں تاکہ ناجائز شراب رکھنے کے الزام میں اسے پکڑوا دیں۔مجھے خیال تھا کہ چونکہ اس کی شکل مسلمانوں والی ہے اس لئے وہ مسلمان ہی ہو گا مگر جب میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے مجھے اپنا نام ہندوانہ بتایا تب میں نے اسے کہا یہ معاملہ پولیس سے تعلق رکھتا ہے میں تو صرف نصیحت کر سکتا ہوں تم پولیس کو اطلاع دو اس کا فرض ہے کہ وہ اچھے شہریوں کی امداد کرے اور اس فرض کی وجہ سے وہ تمہاری بھی ضرور امداد کرے گی۔باقی جہاں تک میں نصیحت کر سکتا ہوں وہ بھی کردوں گا پھر میں نے اس شخص سے کہا دیکھو تم ہندو ہو اور تم میرے پاس امداد کے لئے آئے ہو مگر تمہارے جیسی بے مروت قوم میں نے آج تک نہیں دیکھی۔میرے پاس سینکڑوں خطوط ہندوؤں کے موجود ہیں جن میں انہوں نے اقرار کیا ہوا ہے کہ مصیبتوں اور تباہیوں کے وقت صرف احمدیوں نے ان کی جانیں بچائیں اور ہر جگہ اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر ان کی حفاظت کی (میں صرف خواب میں ہی ایسا نہیں کہہ رہا بلکہ واقعہ میں ایسے سینکڑوں خطوط ہندوؤں کے ہمارے پاس موجود ہیں) پھر میں اس سے کہتا ہوں اس وقت میری جیب میں بھی ایک خط پڑا ہوا ہے جس میں ایک ہندو نے اقرار کیا ہے کہ آپ کی جماعت نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر ہماری جانیں بچائیں اور واقعہ بھی یہ ہے کہ اس وقت میرے کوٹ کی جیب میں ایسا خط پڑا ہوا تھا مگر باوجود اس کے کہ ہر جگہ ہم نے تمہاری جانوں کی حفاظت کی ، تمہارے مالوں کی حفاظت کی، تمہاری عزت و آبرو کی حفاظت کی ، تمہارا جس جگہ