رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 387

387 مہمان نوازی پر جو اخراجات ہوں وہ اس روپے سے ادا کئے جائیں اور خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ ان نوٹوں کی مالیت ڈیڑھ سو روپیہ ہے میں نے اس سکھ سے کہا۔اس موقع پر ہم کسی شخص سے کچھ نہیں لیا کرتے اس کے بعد اس نے ایک او۔گٹھانوٹوں کا میری طرف پھینکا نگر میں نے کہا۔ہم آپ سے کچھ نہیں لیں گے کیونکہ یہ طریق اخلاق کے خلاف ہے اس کے بعد مجھے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نظر آتے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ ان کے کھانے کا انتظام کیا جائے وہ کہتے ہیں۔اس وقت اور تو کوئی موزوں آدمی نہیں ہے کیا میں یہ انتظام میاں خلیل احمد صاحب کے سپرد کر دوں۔میں نے کہا کسی کے بھی سپرد کر دیں بہر حال انتظام ہونا چاہئے اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔فرمایا : واقعات بالکل اسی طرح گزرے ہیں جیسا کہ خواب میں مجھے دکھائے گئے ہیں سردار سندر سنگھ صاحب مجیٹھ والوں کا واقعہ بھی اسی طرح تھا اور سردار کرپال سنگھ کا جو واقعہ خواب میں آیا ہے وہ بھی بالکل ویسے ہی تھا میں نے ان کی ممبری کے لئے کھڑے ہونے کے وقت ان کے خط کے جواب میں سندھ سے لکھا تھا کہ ہم آپ کی مدد کریں گے مگر جب ہم واپس قادیان آئے تو ان کا کوئی آدمی ہمارے پاس نہ پہنچا اور انہوں نے ہم سے مدد نہ لی اور جب ان کے ہار جانے پر ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے مدد کیوں نہ لی تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ مجھے ہندوؤں اور سکھوں نے ورغلایا تھا کہ ان سے مدد نہ کی جائے اور اب اسی وجہ سے میں ہار گیا ہوں اور افسوس کر رہا ہوں کہ مدد کیوں نہ لی گئی پھر ان کے دوسرے بھائی کا بھی خواب میں ذکر آیا ہے اور اسی رنگ میں آیا ہے کہ انہوں نے مدد نہ لی۔یہ رویا پردے کی ہے اور اس کا پورا انکشاف مجھ پر نہیں ہو سکا مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سکھوں کو مسلمانوں کی مدد کی ضرورت پڑے گی اور ان کی مدد کے بغیر ان کو امن نہیں ملے گا عجیب بات یہ ہے کہ اب جبکہ باہر سے آنے والے دوستوں نے مجھ سے بھی ملاقات کی تو ان میں دو آدمی اس جگہ کے تھے جس کے ساتھ خواب کا تعلق تھا۔یعنی مجیٹھ کے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رویا کوئی خاص مقصد رکھتی ہے۔الفضل 8۔اگست 1951 ء صفحہ 4