رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 346
346 میرے ذریعہ سے روشن فرمائے گا۔الفضل 31 اکتوبر 1946 ء صفحہ 1 نیز دیکھیں۔الفضل 31 جنوری 1962ء صفحہ 2 و 6۔نومبر 1946ء صفحہ 4 اکتوبر 1946ء 402 فرمایا : دوسرا ر و یا جو میں نے دیکھا وہ بھی دلی میں ہی دیکھا اور اس وقت دیکھا جب ہمارا سفر نصف کے قریب گذر چکا تھا۔رویا میں میں نے دیکھا کہ میں عرب میں ہوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی وہیں موجود ہیں۔میں خواب میں یہ نہیں سمجھتا کہ مجھے وہ پہلا زمانہ دکھایا گیا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دنیا میں موجود تھے اور نہ اس امر کا خیال گزر رہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ہیں بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں موجود ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہیں اور ہم بھی مکہ میں ہیں اور مدینہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ مشکلات درپیش تھیں اس پر آپ حضرت ابو بکر سے مشورہ کرنے کے لئے مدینہ تشریف لے گئے۔حضرت ابو بکر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو باتیں کیں ان میں ایک واقعہ بھی بیان کیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس واقعہ سے ہی فوراً ایک نتیجہ اخذ کر لیا اور اس پر عمل کر کے مشکلات کو حل کر لیا۔وہاں بہت سے لوگ ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا مونہہ مغرب کی طرف ہے یعنی افریقہ کی طرف ہے کیونکہ افریقہ عرب سے مغرب کی طرف ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنوب کی طرف کھڑے ہیں اور آپ بالکل نوجوان دکھائی دیتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عمر چھپیں ستائیس سال کے قریب ہے آپ کے سر پر چھوٹی سی پگڑی ہے وہ پگڑی نہیں جو آج کل عرب لوگ باندھتے ہیں اور جسے کو فیہ کہتے ہیں بلکہ وہ پگڑی جو عرب کے لوگ پہلے زمانہ میں پہنا کرتے تھے۔آپ کے پٹے کانوں کی لو تک ہیں۔کچھ نیچے مگر کندھوں سے کافی اوپر تک ہیں۔رنگ سفید ہے اور قد حدیثوں میں تو کچھ لمبابیان ہوا ہے مگر میں نے آپ کا قد اس سے کچھ چھوٹا دیکھا ہے ، آپ کچھ فاصلہ پر میری طرف منہ کر کے کھڑے ہیں۔میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے لوگوں کو کہتا ہوں کہ دیکھو ایک واقعہ جو