رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 212
212 ہو میں نے اس کے متعلق کبھی بددعا نہیں کی اور اگر کسی وقت کوئی کلمہ جوش کی حالت میں میری زبان سے نکل جائے تو میں بعد میں ضرور دعا کیا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان الفاظ کو اس کے حق میں دعا بنا دے مگر آج رات یہ الہامی فقرہ مجھ پر نازل ہوا کہ اے خدا میرے دشمن سے انتقام لے اس وقت دشمن کے معنے میری سمجھ میں یہ آئے کہ اس سے مراد کوئی ایسا شخص ہے جو سردار ہے اور جس کے ماتحت بعض اور لوگ بھی ہیں یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس سے کون شخص مراد ہے مگر الفاظ یہی تھے کہ اے خدا میرے دشمن سے انتقام لے یہ خدائی فقرہ ہے میرا نہیں۔اس لئے میرا جو اصول ہے کہ میں کسی کے لئے بد دعا نہیں کرتا وہ بہر حال قائم ہے الہام نازل ہوتے وقت کوئی دشمن میرے ذہن میں نہیں تھا۔صرف اتنا جانتا تھا کہ وہ اکیلا دشمن نہیں بلکہ ایک لیڈر ہے جس کے ماتحت اور لوگ بھی ہیں۔فرمایا : رؤیا یا الہام یا کشف میں جو دعا بتائی جائے اس کے الفاظ کو دعائیہ ہوتے ہیں مگر مراد اس سے کوئی پیشگوئی ہوتی ہے یہ نہیں ہوتا کہ وہ صرف دعا ہو۔پیشگوئی نہ ہو۔پس اس الہام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی دشمن جس کے ماتحت اور لوگ بھی ہوں کسی الہی گرفت میں آنے والا ہے۔واللہ اعلم اس سے کون مراد ہے۔الفضل 29۔اپریل 1944ء صفحہ 2 281 ایریل 1944ء فرمایا : کل ایک عجیب رویا دیکھا دو مکان مجھے خواب میں نظر آئے وہ چھوٹے چھوٹے ہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے میں نے وہ مکان خریدے ہیں میں نے رویا میں ان کی عمارت نئے سرے سے بنتی دیکھی ہے گو وہ ہیں چھوٹے چھوٹے۔ساتھ ہی دل میں خیال گزرتا ہے کہ میں نے دو تجارتی کاموں میں حصہ لیا ہے۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اس میں اندازی پہلو بھی ہے اور تبشیری بھی۔الفضل 29۔اپریل 1944ء صفحہ 2