رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 175
175 یا الہی ! تو اپنا فضل کر اور یہی دعا کرتا کرتا میں سو گیا۔صبح کے قریب کا وقت تھا کہ میرے سامنے ایک کاغذ لایا گیا جس پر کچھ لکھا تھا میں نے اسے پڑھنا شروع کیا مگر کشف میں ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رات کا وقت ہے اور وہ ٹھیک طرح پڑھا نہیں جاتا۔کئی بار میں نے کوشش کی مگر ٹھیک طور پر پڑھا نہیں گیا لیکن آخر پڑھا گیا اس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے۔أكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا اس کے بعد یہ الفاظ میرے دل پر بھی اور زبان پر نازل ہونے شروع ہوئے اور بہت دیر تک آدھا گھنٹہ معلوم نہیں کتنے عرصہ تک میری زبان پر یہ الفاظ جاری رہے زبان بھی یہی الفاظ کہتی تھی اور دل میں بھی بار بار دہرائے جاتے تھے۔اتنی تکرار کے ساتھ یہ الفاظ الہام ہوتے رہے کہ شاید نصف یا پون گھنٹہ مسلسل جس طرح تار سارنگی پر پڑتی ہے یہ الفاظ میرے قلب پر پڑتے رہے یہاں تک کہ میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 5۔جون 1942ء صفحہ 4 244 $1942 فرمایا : 1942 ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھے الہا نا فرمایا۔مَوْتُ حَسَنٍ مَوْتٌ حَسَنٌ فِي وَقْتٍ حَسَنٍ کہ حسن کی موت بہترین موت ہوگی اور ایسے وقت میں ہوگی جو بہتر ہو گا۔اس الہام میں مجھے حسن رضی اللہ عنہ کا بروز کہا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری ذات کے ساتھ تعلق رکھنے والی پیشگوئیوں کو پورا کرے گا اور میرا انجام بہترین ہوگا اور جماعت میں کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہوگی۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ تغير كبر جلد ششم جزو چهارم صفحه 183