رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 176

176 245 $1943 1942 فرمایا : میں نے وقت پر خدا تعالیٰ سے خبر پا کر جماعت کو 3/2 سال ہوئے 1842ء کے آخر یا 1843ء کے شروع میں اطلاع دی تھی اور جلسہ سالانہ کے موقع پر اس خواب کو بیان بھی کر دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ ہماری جماعت کے لوگوں کو خود اپنے گھروں میں کپڑے بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس دستکاری کو جاری کرنا چاہئے کیونکہ آئندہ کپڑے کے قحط کا امکان ہے۔الفضل 11۔اکتوبر 1945ء صفحہ 1 8 جنوری 1943ء 246 فرمایا : میں نے آج رویا میں دیکھا ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں وہ اس سلسلہ میں ہے چنانچہ میں اس کو بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں میں نے رویا میں دیکھا کہ میں یکدم قادیان سے کسی سفر کے ارادے سے چل پڑا ہوں چند آدمی میرے ساتھ ہیں مگر ایسے نہیں جو سیکرٹری وغیرہ کے طور پر کام کرتے ہیں بلکہ ایسے لوگ ساتھ ہیں جو عام طور پر جب کسی سفر پر جانا ہو تو ساتھ نہیں ہوتے۔میرا ارادہ کسی لمبے سفر کا معلوم ہوتا ہے مگر قادیان سے رخصت ہونا یاد نہیں۔بس ارادہ کیا اور ارادہ کرتے ہی چل پڑے کچھ دور جا کر ہم ایک جگہ ٹھر گئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی اور ملک ہے اور جیسے راستہ میں پڑاؤ کیا جاتا ہے اسی طرح ہم نے بھی وہاں پڑاؤ کیا ہے وہاں کسی مکان کے سامنے ایک چبوترہ بنا ہوا ہے مگر اس کا جو اگلا حصہ ہے وہ چوڑا کم ہے اور لمبا زیادہ ہے مگر اس کے پیچھے جو جگہ ہے وہ اگلے حصہ سے کچھ چوڑی ہے اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد ابراہیم صاحب جو بقا پوری کہلاتے ہیں وہاں جماعت میں بطور مبلغ کے کام کرتے ہیں میں مولوی صاحب پر کسی قدر خفا ہوتا ہوں کہ آپ کی طبیعت میں عجیب لا ابالی پن ہے کہ آپ جماعت کے دوستوں کو مجھ سے ملاتے نہیں اور میرے ساتھ لگے ہوئے ہیں اس طرف آپ کی ذرا بھی توجہ نہیں کہ جماعت کے دوستوں کو مجھ سے ملائیں اور میری ان سے واقفیت پیدا کرائیں۔انہی باتوں میں نماز کا وقت آگیا اور میں نماز کے لئے دو تین آدمیوں کو کھڑا دیکھتا ہوں اس وقت میں ان سے کہتا ہوں کہ جماعت کے امیر کہاں ہیں پریذیڈنٹ کہاں ہیں اور