رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 143
143 پڑھنے والوں کی آواز نہایت ہی سریلی اور دل کو لبھانے والی تھی اور وہ اس طرح پڑھ رہے ہیں جس طرح کوئی مست ہو کر گاتا ہے وہ نظر تو نہیں آتے تھے مگر ان کی آواز سنائی دیتی تھی۔جب میں اور قریب ہوا تو میں نے محسوس کیا کہ یہ تو فرشتے ہیں جو میرا مصرعہ پڑھ رہے ہیں اتنے میں یکدم دور افق سے بجلی چمکی اور روشنی ہوئی اور معا مجھے القاء ہوا کہ یہ اللہ تعالی کی دوسری تجلی ہے پہلی تجلی وہ تھی جو میرے پہنچنے سے قبل ظاہر ہو چکی ہے اور گویا وہ ادنی تجلی تھی اور اسے دیکھ کر یہ فرشتے یہ مصرعہ پڑھنے لگے کہ زنہار میں نہ مانوں گا چہرہ دکھا مجھے اور گو میں نے پہلی تجلی نہیں دیکھی مگر میں سمجھتا ہوں کہ دوسری زیادہ ہے اور جب یہ ظاہر ہوئی تو فرشتوں نے پہلے مصرعہ کی بجائے یہ مصرعہ پڑھنا شروع کر دیا اک معجزہ دکھا کے تو عیسی بنا مجھے " یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب ملائکہ نہایت جوش کے ساتھ اکٹھے جس طرح انگریزوں کے ہاں Chorus ہوتا ہے گا رہے ہیں۔وہ کچھ دیر اسی جوش اور شدت کے ساتھ گاتے رہے اور یوں معلوم ہونے لگا کہ گویا ان کی آواز نے اللہ تعالیٰ کے عرش کو ہلا دیا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کی آخری تجلی ہوئی اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ پہلی تجلی جو میرے پہنچنے سے قبل ظاہر ہوئی عاشقانہ تجلی تھی۔دوسری عیسوی تجلی تھی اور یہ تیسری محمدی تجلی ہے جس میں بہت نور تھا اس پر فرشتوں نے ایک تیسرا مصرعہ پڑھنا شروع کر دیا جو مجھے یاد نہیں رہا اور اس پر میری آنکھ کھل گئی۔مجھے یاد ہے کہ میں خواب میں ہی کہہ رہا تھا کہ یہ تیسری متجلی محمدی تجلی ہے۔الفضل 8۔نومبر 1939ء صفحہ 5۔نیز دیکھیں۔الفضل 10 مئی 1944 ء صفحہ 3 - 4 و الفضل 23 جون 1944ء صفحہ 1 جولائی یا اگست 1939ء 218 فرمایا : انگلستان اور جرمنی کی ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی کہ میں نے دھرم سالہ میں جہاں میں ان دنوں تبدیلی آب و ہوا کے لئے مقیم تھا رویا میں دیکھا کہ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوں اور میرا مونہہ مشرق کی طرف ہے کہ ایک فرشتہ آیا اور اس نے جیسا کہ میرے سرشتہ دار ہوتے ہیں بعض کا غذات میرے سامنے پیش کرنے شروع کر دیے وہ کاغذات انگلستان اور