رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 113
113 کہ جیتنے والے جسے پیش کریں گے وہ خلیفہ ہو گا یا یہ کہ اگر وہ کہیں گے کہ کوئی خلیفہ نہ ہو تو کوئی بھی نہ ہو گا بہر حال جب میں نے یہ بات سنی تو میں ان لوگوں کی طرف گیا اور میں نے ان نشانوں کو جو کہڈی کھیلتے کھیلتے بنائے جاتے ہیں مٹا دیا اور کہا کہ میری اجازت کے بغیر کون یہ طریق اختیار کر سکتا ہے یہ بالکل ناجائز ہے اور میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس پر کچھ لوگ مجھ سے بحث کرنے لگے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ اکثریت پہلے صرف ایک تلعب کے طور پر یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ کون جیتتا ہے اور خلیفہ کی تعیین کرتا ہے اور کم لوگ تھے کہ جو خلافت کے ہی مخالف تھے مگر میرے دخل دینے پر جو لوگ پہلے خلافت کے موید تھے وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔گویا میرے روکنے کو انہوں نے اپنی ہتک سمجھا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے ساتھ صرف تین چار آدمی رہ گئے اور دوسری طرف ڈیڑھ دو سو۔اس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ گویا احمدیوں کی حکومت ہے اور میں اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے خون ریزی کے ڈر سے بھی میں پیچھے قدم نہیں ہٹا سکتا اس لئے آؤ ہم ان پر حملہ کرتے ہیں دو مخلصین میرے ساتھ شامل ہوئے مجھے یاد نہیں کہ ہمارے پاس کوئی ہتھیار تھے یا نہیں مگر بہر حال ہم نے ان پر حملہ کیا اور فریق مخالف کے کئی آدمی زخمی ہو گئے اور باقی بھاگ کر تہہ خانوں میں چھپ گئے۔اب مجھے ڈر پیدا ہوا کہ یہ لوگ تہہ خانوں میں چھپ گئے ہیں ہم ان کا تعاقب بھی نہیں کر سکتے۔اور اگر یہاں کھڑے رہتے ہیں تو یہ لوگ کسی وقت موقع پا کر ہم پر حملہ کر دیں گے اور چونکہ ہم تعداد میں بالکل تھوڑے ہیں ہمیں نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اور اگر ہم یہاں سے جائیں تو یہ لوگ پشت پر ہیں آکر حملہ کر دیں گے پس میں حیران ہوں کہ اب ہم کیا کریں۔میری ایک بیوی بھی ساتھ ہیں اگر چہ یہ یاد نہیں کہ کونسی اور ایک چھوٹا لڑ کا انور احمد بھی یاد ہے کہ ساتھ ہے۔میرے ساتھی ایک زخمی کو پکڑ کر لائے ہیں جسے میں پہچانتا ہوں اور جو اس وقت وفات یافتہ ہے اور بااثر لوگوں میں سے تھا میں اسے کہتا ہوں کہ تم نے کیا یہ غلط طریق اختیار کیا اور اپنی عاقبت خراب کرلی۔مگر وہ ایسا زخمی ہے کہ مر رہا ہے مجھے یہ درد اور گھبراہٹ ہے کہ اس نے یہ طریق کیوں اختیار کیا مگر جواب میں اس کی زبان لڑکھڑائی اور وہ گر گیا۔اتنے میں پہاڑ کے نیچے شور کی ایک آواز پیدا ہوئی معلوم ہوا کہ تکبیر کے نعرے بلند کئے جارہے ہیں۔میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کیا شور ہے تو اس نے بتایا کہ یہ جماعت کے غرباء ہیں ان کو جب خبر ہوئی کہ آپ سے