رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 102

102 شخص تسلی حاصل کرنے کے لئے ایسے الفاظ پر مطمئن ہونا چاہتا ہے میں بھی مطمئن ہونا چاہتا ہوں مگر پھر گھبراہٹ میں کہتا ہوں چلو دیکھیں تو سہی۔اسی گھبراہٹ میں تھا کہ آنکھ کھل گئی۔اس رویا کے سات آٹھ دن کے بعد تار پہنچا کہ (حضرت اماں جان سخت بیمار ہیں اس وقت تار کے پہنچنے پر میں نے بعض دوستوں کو جن میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور غالبا مولوی شیر علی صاحب بھی تھے بتایا کہ میں نے اس طرح رویا دیکھا ہے جس کی وجہ سے مجھے گھبراہٹ ہے۔شاید اس سے مراد حضرت اماں جان ہی ہوں۔میں فوراہی روانہ ہو گیا لیکن میرے آنے تک بہت حد تک انہیں صحت ہو گئی تھی پھر جلدی ہی اللہ تعالٰی کے فضل سے انہیں کامل صحت ہو گئی اس کے چند ہی دنوں کے بعد مولوی عبد الستار صاحب بیمار ہو گئے اور مجھے ان کی بیماری کی اطلاع پہنچی گو میں اس عرصہ میں ان کی صحت کے لئے دعائیں ضرور کرتا تھا مگر دل میں خدشہ تھا کہ اس خواب سے مراد انہی کی وفات نہ ہو اور اب جبکہ وہ فوت ہو چکے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ یہ رویا انہی کے متعلق تھی جو پوری ہو گئی۔الفضل 3۔نومبر 1922ء صفحہ 8 دسمبر 1932ء 173 فرمایا : چند ہی دن ہوئے میں نے ایک اور رویا دیکھا۔میں نے دیکھا دروازہ پر آواز دی گئی ہے کہ باہر آئیں ایک ضروری کام ہے۔جب میں باہر آیا تو دیکھا کہ دروازہ پر شیخ عبد الرحمان صاحب قادیانی اور منشی برکت علی صاحب آڈیٹر صد را مجمن احمد یہ کھڑے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پارسل ہے۔پارسل رسیوں سے بندھا ہوا ہے اور اوپر مہریں لگی ہوئی ہیں وہ کاغذات کا بنڈل معلوم ہوتا ہے۔انہوں نے بڑے ادب سے کاغذات پیش کئے میرا ہی ادب نہیں کیا بلکہ کاغذات کا بھی ادب کیا۔کہا یہ پارسل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بصیغہ راز بھیجا ہے اور اس میں تاکیدی ارشاد فرمایا ہے اور یہ بھی کہ حاجی نبی بخش کو بھی شامل کر لیا جائے۔منشی برکت علی صاحب کے سپرد میں نے چندہ کشمیر کا کام کیا ہوا ہے اس وقت میرا ذہن اس طرف گیا کہ اس پارسل میں کشمیر کے متعلق خاص ہدایات ہیں تو میں اس کام میں خدائی ہاتھ سمجھتا ہوں۔الفضل 10 جنوری 1933 صفحہ 4