رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 94
94 157 27 دسمبر 1926ء فرمایا : آج صبح کی نماز پڑھ کر میں نے سلام پھیرا تو معادا ئیں طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا اس پر میں نے سمجھا کہ ہمارا اندازہ غلط ہے اس دفعہ بھی لوگ ہمارے اندازہ سے زیادہ ہی آئیں گے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائیں اور پھر لوگ کم آئیں بادشاہ کے آنے پر تو لوگ زیادہ آیا کرتے ہیں۔چنانچہ آج جلسہ گاہ شہادت دے رہا ہے اس بات کی کہ باوجود جلسہ گاہ کے پہلے کی نسبت زیادہ وسیع ہونے کے اب زیادہ آدمیوں کی گنجائش نہیں اور یہ ہمارے لئے نشان ہے۔الفضل 11 جنوری 1927ء صفحہ 8 158 جنوری 1927ء فرمایا : ایک دفعہ ایک دوست نے مجھے مجملاً ایک مصیبت کی اطلاع دی اور دعا کے لئے کہا۔مجھے اس نے یہ نہیں بتایا کہ فلاں مصیبت ہے اور حالات نہیں لکھے تھے۔ان دنوں ان کی ہمشیرہ بھی بیمار رہتی تھیں اس لئے میں نے خیال کیا کہ ان کی ہمشیرہ زیادہ بیمار ہوگی۔میں نے دعائیں کیں تو مجھے رویا میں معلوم ہوا کہ کوئی کہتا ہے قانونی غلطی کی وجہ سے تمام حقوق ضائع ہو گئے اور گورنمنٹ کی گرفت کے نیچے آگئے لیکن اگر وہ تو کل کریں گے اور گھبرائیں گے نہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے معاملات کو بالکل الٹ دے گا اور ان کے حق میں بہتر حالات پیدا کر دے گا۔میں نے ان کو یہی لکھ دیا۔تھوڑے ہی دنوں کے بعد ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ قریب تھا کہ واقع میں ان کے حقوق ضائع ہو جائیں اور گرفت کے نیچے آئیں۔میری طرف انہوں نے لکھا کہ اس قسم کے حالات پیدا ہو رہے ہیں کہ مجھے خطرہ ہے کہ میرے تمام حقوق تباہ ہو جائیں۔میں نے انہیں لکھا کہ آپ تو تکحل کریں اور گھبرائیں نہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ ان کے مد مقابل انگریز تھا یہ حالات بالکل بدل گئے حتی کہ اس انگریز نے میری طرف لکھا کہ مجھے مصیبت سے بچائیے۔الفضل 21 جنوری 1927ء صفحہ 4