رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 93

93 مجھ پر اس رویا کا اتنا اثر ہوا کہ میں خواب میں ہی سوچتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام سے وعدہ کیا ہے کہ جماعت بڑھے گی اور باوجود اس کے کہ جماعت میں غفلت اور ستی پائی جاتی ہے کئی لوگ لڑائی جھگڑوں میں پڑے ہیں فرماتا ہے مکان وسیع کرو تو اب اس رویا کو پورا کرنے کے لئے کس طرح مکان کو وسیع کیا جائے۔خواب میں ہی خیال کر رہا ہوں میں نے تو کبھی مکان نہیں بنوایا اب کس طرح وسعت کراؤں گا۔پس یہ وہی وعدہ ہے کہ جماعت بڑھے گی اور یہ پورا ہو کر رہے گا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو متواتر وسع مكانك کا الہام ہوتا رہا اور نبیوں کے الہام بعض دفعہ دوری ہوتے ہیں یعنی ایک زمانہ آتا ہے جب وہ پورے ہوتے ہیں پھر درمیان میں وقفہ پڑ جاتا ہے پھر ان کے پورے ہونے کا وقت آجاتا ہے۔گویا وہ ایک ہی دفعہ پورے ہو کر ختم نہیں ہو جاتے بلکہ بار بار پورے ہوتے رہتے ہیں۔وجہ یہ کہ انسان کی زندگی تو اس کے سانس تک ہوتی ہے لیکن نبیوں کی زندگی ان کے سانس تک نہیں ہوتی بلکہ ان کی قوم کے سانس تک ہوتی ہے اس لئے متواتر ان کے الہام پورے ہوتے رہتے ہیں۔چونکہ یہ رویا ہماری جماعت کی اصلاح و درستی سے تعلق رکھتی ہے اس لئے میں نے اس کا بیان کرنا ضروری سمجھا۔امید ہے کہ دوست اس مقصد کو مد نظر رکھیں گے جو اس سلسلہ کے قیام میں خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے تجویز کیا ہے۔الفضل 15۔جنوری 1926ء صفحہ 8 10C $1926 فرمایا 156 زین الدین صاحب (انجینئر بمبئی۔ناقل) کے متعلق بھی میں نے رویا میں دیکھا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم آئے ہیں۔میں نے دریافت کیا آپ کہاں؟ فرمانے لگے میں بھی آیا ہوں اور حضرت صاحب بھی آئے ہیں۔زین الدین صاحب کو لے جاتا ہے میں نے اس سے سمجھ لیا کہ یہ رویا ان کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ان کی عمر 95 یا سو سال کے قریب تھی اور حضرت صاحب کے دیرینہ مخلص تھے۔بالکل اسی طرح کے مخلص تھے جس طرح کے شیخ رحمت اللہ صاحب۔چند لوگ جنہیں حضرت صاحب بہت ہی پیار کیا کرتے تھے ان میں سے ایک یہ زین الدین صاحب تھے۔الفضل 16۔فروری 1926ء صفحہ 8