رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 92

92 ہوں کہ ظاہر نہ ہوں مگر اس سارے نظارہ کا مجھ پر اس قدر اثر ہوتا ہے کہ آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور آنسوؤں کا تار بندھ گیا۔میں کچھ بیان کر کے ٹھہر جاتا ہوں اور رقت سے آگے نہیں بیان کر سکتا۔پھر خاں صاحب کہتے ہیں آگے۔اور پھر میں کچھ بیان کر کے رک جاتا ہوں۔اس وقت میں نے دیکھا ان کے قلب پر بھی اثر ہوا اور ان کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہو گئے اور ناک سے پانی بہنے لگا۔میں ان کو یہ نظارہ سناتا ہوں اور بتاتا ہوں دیکھو جب حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام نے کوشش کی اور خاطر خواہ نتیجہ نہ دیکھا اور جب انسانی کوششیں کام نہ کر سکیں تو خدا نے وعدہ دیا کہ وَسِعُ مَكَانَكَ ہم خود انتظام کریں گے کہ لوگ کثرت سے تمہارے پاس آئیں اس لئے اپنے مکان کو وسیع کرو۔میری اس وقت رقت کی حالت تھی کہ آنکھ کھل گئی۔اس کے متعلق میں نے سمجھا کہ اس رویا میں تین باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور ایک نہایت لطیف پیرایہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جماعت میں اختلافات کیونکر پیدا ہوتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمانا کہ تم چھوٹی چھوٹی باتوں میں پڑے ہو بڑی بات یعنی اسلام کی طرف نہیں دیکھتے کہ اس کی کیا حالت ہے۔یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اختلافات تب ہی پیدا ہوتے ہیں جب انسان یہ خیال کر لیتا ہے کہ اب میں امن میں ہو گیا ہوں ورنہ جب تک کسی انسان کے سامنے کوئی بڑا مقصد ہو جسے اس نے حاصل کرنا ہو اور وہ اپنے اردگر و خطرات کو دیکھتا ہو اس وقت آپس میں لڑائی جھگڑا پیدا نہیں کرتا۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر اسی وقت لڑتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ اب میں امن میں ہوں اور اپنا کام کر چکا ہوں۔تو اس رویا میں تین باتیں بیان ہوئی ہیں ایک یہ کہ ہمیں تبلیغ کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔دوم یہ کہ تبلیغ میں ہم اس وقت کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک تربیت نہ کریں۔سوم اپنے مقصد کو سامنے سے ہٹا دینا موجب ہے ان اختلافات کا جو بعض دوستوں میں پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ تین باتیں تو ہمارے متعلق ہیں لیکن ایک چوتھی بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی درد بھری دعائیں درجہ قبولیت کو پہنچ گئیں اور خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے سامان کرے گا کہ یہ سلسلہ وسیع ہو گا اور نئے سرے سے اسی طرح توسیع مکان کی ضرورت پیش آئے گی جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں پیش آئی تھی۔