رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 83
83 ہونے والے تھے لیکن باوجود اس کے جماعت کی کثرت رائے دیکھ کر میں وہاں گیا اور پھر میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جماعت یہ خیال نہ کرے کہ میرے وہاں جاتے ہی احمدی ہونا شروع ہو جائیں گے۔میں تو وہاں تبلیغ کے لئے حالات دیکھنے جاتا ہوں پھر بعد کے حالات سے معلوم ہوا کہ میرے جانے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ وہ فتوحات جو میرے وہاں جانے کے نتیجہ میں اب شروع ہوئی ہیں وہ کسی اور شخص کی طرف منسوب نہ ہوں اور اسلام پر کسی خاص شخص کا احسان نہ ہو بلکہ براہ راست حضرت مسیح موعود کی طرف منسوب ہوں۔الفضل 14۔جنوری 1927ء صفحه 4 142 $1924 فرمایا جب میں نے اس قسم کی بار بار خواہیں دیکھیں تو اس وقت میں نے دعا کی کہ الہی ! حالات اس قسم کے ہیں کہ جو غم دینے والے اور صدمہ پہنچانے والے ہیں اور لوگ ان حالات سے واقف نہیں اور تفصیل کے ساتھ میں بتا بھی نہیں سکتا کیونکہ خوابوں کو تفصیلاً بیان کرنا منع ہے۔ایسی حالت میں اگر میں سفریورپ کی تیاری نہیں کرتا تو لوگ شاید یہ کہیں کہ ایک لمبے سفر کی صعوبت سے بچنا چاہتا اور اپنے آرام اور آسائش کو مقدم کرتا ہے جس کا اثر یہ ہو کہ پھر ساری کی ساری قوم بزدل ہو جائے اور کہہ اٹھے کہ خلیفہ کو ایک موقع دین کے لئے باہر جانے کا پیش آیا تو وہ گیا نہیں پھر ہم کیوں جائیں اور اگر تمام حالات اور مشکلات کو نظر انداز کر کے دور دراز کا سفر اختیار کرتا ہوں تو ممکن ہے لوگ یہ کہیں کہ یہ تو سیر و سیاحت کے لئے جاتا ہے اور میں ان حالات کو کھول کر پتا بھی نہیں سکتا اور ان کو میرے حال کی کیا خبر۔اگر وہ مشکلات جو مجھے در پیش ہیں ان کو بھی درپیش ہوں تو وہ کبھی ایسے سفر کی جرات نہ کریں۔جب میں نے دعا کی تو اس شب میری زبان پر یہ کلام جاری ہوا۔قُلْ إِنَّ صَلوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کہ میری زندگی اور موت تو سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے یعنی ان باتوں کی کچھ پروا نہ کرو۔تمہاری زندگی بھی خدا کے لئے ہو اور اگر اس کے لئے موت بھی آجائے تو اس کو بھی برداشت کرو اور جو کام خدا تعالیٰ کی طرف سے پیش آیا ہے اس کو پورا کرو تب میں نے اللہ تعالیٰ کی