رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 78

78 لئے تیار ہو گیا۔اس وقت کیا دیکھتا ہوں کہ تین مولیاں پڑی ہیں اور پھر ایک بڑھیا آگئی۔یہ نہیں معلوم ہوا کہ وہ پہلی ہی ہے یا کوئی اور مگر تھی وہ بھی سخت مکروہ شکل۔وہ مجھ سے مولیاں لیتا چاہتی ہے۔میں نے کہا کیوں لیتی ہو یہ تو ہمارے کھیت سے آئی ہیں۔وہ کہتی ہے میں نے محنت کی ہے اگر یہ تم لینا چاہتے ہو تو مجھے مزدوری دے دو۔میں نے کہا سکہ رائج الوقت میں سے ایک دھیلہ مزدوری دوں گا۔اس نے کہا یہ بہت کم ہے لاہور میں تو بہت زیادہ محنت ملتی ہے۔میں نے کہا وہ شہر ہے اور یہ گاؤں ، اچھا ایک پیسہ لے لو۔وہ کہتی ہے ایک روپیہ دو اور پھر کہتی ہے اچھا چار آنے دے دو۔لیکن میں نے دینے سے انکار کر دیا اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔مولی غم پر دلالت کرتی ہے اور کھیت سے اکھیڑنے کا مطلب جماعت سے جدا کرنا ہے لیکن اس رویا سے سمجھا تھا کہ تین آدمیوں کا صدمہ ہونے والا ہے۔صبح میں نے تعبیر نامہ نکالنے کے لئے کہا اس کی ابھی تلاش ہی ہو رہی تھی کہ رقعہ آیا بابو محمد یوسف صاحب ملتے نہیں۔پھر رقعہ آیا کہ فوت ہو گئے ہیں پھر ایک اور رقعہ آیا جو ایک ایسے دوست کی طرف سے تھا جس سے مجھے بچپن سے تعلق رہا ہے کہ انہیں تار آیا ہے ان کی بیوی سخت بیمار ہے۔پھر میں جلسہ کے لئے آرہا تھا تو معلوم ہوا کہ ایک دوست جو علاقہ ملکانہ میں تبلیغ کے لئے گئے ہوئے ہیں ان کا بچہ فوت ہو گیا ہے۔یہ دو واقعے تو موت کے ہو گئے تیسری جو بیماری کی تار آئی ہے دوست اس کی صحت کے لئے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ اس حادثہ کو ٹلا دے۔لیکچر نجات ( تقریر 28۔دسمبر 1923ء) (غیر مطبوعہ) 1924 1923 134 فرمایا : 1923ء یا 1924ء میں میں نے مہاراجہ صاحب کشمیر کے متعلق رویا دیکھا اور متواتر دو دن دیکھا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب میں سیاسیات کے ساتھ پٹیالہ اور کشمیر کا تعلق رہا ہے۔الفضل 11 اپریل 1947 ء ( ڈائری مرتبہ عبد الواحد صاحب آف کشمیر) اس تقریر کا مسودہ خلافت لائبریری میں موجود ہے (مرتب)