رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 76

76 زیادہ تیز ہے میں اسی گھبراہٹ کی حالت میں حیران ہو کر کھڑا تھا کہ میں نے دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور آپ نے پوچھا تم یہاں کیوں کھڑے ہو میں نے کہا حضور چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے میں ایک جگہ کی آگ بجھاتا ہوں تو دوسری جگہ نکل آتی ہے اور ہر آگ پہلی آگ سے زیادہ تیز ہے جو کسی طرح سمجھنے میں نہیں آتی۔آپ نے فرمایا یہ آگ یوں نہیں مجھے گی اس آگ کی ایک کنجی ہے جو میں تمہیں بتاتا ہوں چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے زمین میں ایک سوراخ دکھایا اور فرمایا۔یہ اس آگ کی کنجی ہے پھر آپ نے اشارہ کیا کہ اس سوراخ کو بند کر دو۔اس پر میں نے اس سوراخ کو زور سے دبا دیا اور میں نے دیکھا کہ جونہی میں نے سوراخ کو دبایا تمام آگیں بجھ گئیں اور کوئی شعلہ باقی نہ رہا۔یہ نظارہ جو میں نے 1922ء یا 1923ء میں دیکھا تھا در حقیقت ہماری جماعت کے مردوں اور عورتوں بچوں اور بوڑھوں کی عملی زندگی کا ایک نظارہ تھا۔الفضل 2۔جون 1936ء صفحہ 5۔نیز دیکھیں۔الفضل 18 جون 1936 ء صفحہ 10 و 10۔مئی 1944 ء صفحہ 5۔4 19۔جون 1951ء صفحہ 5 الفضل 18۔جون 1958ء صفحہ 3 131 21 نومبر 1923ء فرمایا : میں نے جو آج یہ خطبہ پڑھا ہے یہ ایک رویا کی بناء پر پڑھا ہے جو میں نے پرسوں دیکھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا پر کوئی اور عذاب آنے والا ہے اور قریب کے زمانے میں آنے والا ہے۔میں نے دو نظارے دیکھے ہیں۔اول میں نے ایک مریض کو دیکھا جس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ طاعون کا مریض ہے۔پھر ایسا معلوم ہوا کہ ہم کچھ آدمی ایک گلی میں سے گذرے ہیں ہمیں ایک شخص کہتا ہے پرے ہٹ جاؤ یہاں بھینسیں گذرنے والی ہیں۔ایسا معلوم ہوا کہ گویا گلی کے پاس ایک کھلا میدان ہے جس کے ارد گرد احاطہ کے طور پر دیوار ہے اور ایک طرف دروازہ بھی ہے جس کو کو اڑ نہیں ہیں اور میں اور میرے ساتھی اس دروازے میں داخل ہو گئے ہیں۔ہم نے گلی میں سے گذرنے والی بھینسوں کو دیکھا کہ وہ مارنے والی بھینسوں کی طرح گردن اٹھا کر دوڑتی چلی آتی ہیں میں نے انتظار کیا کہ وہ گذر جائیں لیکن اتنے میں ہمیں بتایا گیا کہ وہ اس گلی سے نہیں دوسری سے گذر گئیں۔