رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 75

75 ان کو اس کے متعلق سناتا ہوں کہ یہ میرے دوست ہیں اور مجھ سے ملنے کے لئے آئے ہیں اور مجھ سے چھٹے ہوئے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ یکدم ان میں بھی ایک تغییر آیا اور وہ سترہ اٹھارہ برس کی عمر کے نوجوان ہو گئے ہیں وہ اس سے ملے ہیں اور ان کی یہ حالت ہوئی ہے کہ گویا وہ خوشی سے اچھلنے لگ گئے ہیں۔میں نے اس کو کہا کہ میرے ساتھ بیٹھ کر سناؤ کہ تم کہاں کہاں گئے۔پھر میں خاں صاحب سے کہتا ہوں کہ یہ عجیب شخص ہے جہاں یہ ہو لوگ اس کے گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں میں ان کو یہ حال سناتا ہوں اور خوش ہوں۔آخر قادیان کے مرد اور بچے سب لوگ اس پر لٹو ہوئے جاتے ہیں اور اس سے اس طرح محبت کرتے ہیں جس طرح میں کرتا ہوں۔اس وقت میں نے کہا اس کا نام ”موانست" ہے اور لوگوں سے ملنا اور ان سے محبت کرنا ہے۔اس نظارے کا مجھ پر ایسا اثر تھا کہ میں نے اسی وقت اپنے گھر والوں کو جگایا اور ان کو سنایا تاکہ میں بھول نہ جاؤں اس وقت میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ لوگوں سے ملنا جلنا اور محبت کرنا مجھے مجسم کر کے دکھایا گیا ہے۔لڑکے سے مراد وہ ملنے جلنے کی صفت تھی جو خوبصورت نوجوان کی صورت میں دکھائی گئی جو لوگوں سے محبت کرتا ہے اور ہنس مکھ چہرے سے ملتا ہے اس کے گرد لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔جو چڑ چڑا ہو اس سے لوگ بھاگتے ہیں اس کے ساتھ خان صاحب کے نوجوان ہونے کے یہ معنے ہیں کہ یہ صفت جس کے اندر رہتی ہے وہ بوڑھا ہو کر بھی جو ان ہی ہوتا ہے۔الفضل۔جنوری 1923ء صفحہ 9 130 1923 1922 فرمایا : مجھے اپنا ایک رویا یاد آگیا 1922 ء یا 1923 ء کی بات ہے میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا ایک جگہ آگ لگ گئی ہے۔میں اسے بجھانے کے لئے اٹھا تو میں نے دیکھا ایک اور طرف سے بھی آگ کے شعلے نکلنے شروع ہو گئے ہیں۔میں دوڑ کر اسے بجھانے کے لئے گیا تو کیا دیکھتا ہوں تیسری طرف بھی آگ لگ گئی ہے اور وہ آگ دوسری آگ سے بھی زیادہ بھڑکنے والی ہے یہ دیکھ کر میں اس آگ کی طرف اسے بجھانے کے لئے بھا گا تو دیکھا کہ چوتھی طرف بھی آگ لگی ہوئی ہے اور پہلی تینوں آگوں سے زیادہ تیز ہے۔یہ دیکھ کر میں خواب میں سخت گھبرا گیا اور میں کہتا ہوں نہ معلوم اب کیا ہو گا آگ ہر طرف لگ رہی ہے اور اس کا ہر شعلہ پہلے شعلوں سے