رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 74

74 مرحوم۔ناقل ) ولایت سے آئے تو ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے ان کی آنکھوں کو دیکھا اور مجھ کو بتایا کہ چوہدری صاحب کی ایک (بائیں) آنکھ کا بچنا تو قریبا نا ممکن ہے اور دوسری بھی بہت خراب ہو رہی ہے۔مجھے اس سے قلق پیدا ہوا کہ چوہدری صاحب کام کے آدمی ہیں مگر ان کی آنکھوں کے متعلق ڈاکٹر صاحب ایسا خیال کرتے ہیں۔میں نے دعا کی تو رات کو خواب میں ایک نے کہا کہ ان کی آنکھ تو اچھی ہے صبح کو میں نے ڈاکٹر صاحب کو یہ خواب بتایا اور انہوں نے پھر دیکھا اور کہا کہ اب مرض کا 3 /1 حصہ باقی رہ گیا ہے۔چوہدری صاحب نے عرض کیا کہ اس وقت میری آنکھ میں چنے کے برابر زخم ہو گیا تھا اور چھ انچ کے فاصلہ تک (ہاتھ کو آنکھ کے سامنے کر کے عرض کیا، یہاں سے ہاتھ نظر نہیں آتا تھا بلکہ پانی سا سامنے نظر آتا تھا اس سے پہلے یہ حالت تھی کہ ہر ایک دوائی مضر پڑتی تھی پھر ہر ایک دوائی مفید ہونے لگی اب میری طرف سے سستی ہے کہ میں دوائی کا استعمال نہیں کرتا اس آنکھ کی نظر دوسری سے تیز ہو گئی ہے۔الفضل 9۔اکتوبر 1922 ء صفحہ 5 129 29۔دسمبر 1922ء فرمایا : آج رات میں نے عجیب خواب دیکھی۔چند ماہ ہوئے میں نے اس مضمون پر ایک خطبہ پڑھا لیکن اب ذہن میں بالکل نہ تھا اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر اس رؤیا کا ہونا خدائی تحریک ہے کہ میں آپ لوگوں کو اس طرف متوجہ کروں۔جب میں نے یہ خواب دیکھی تو میں نے اس کی اسی خطبہ کے مطابق تعبیر کی ہے چونکہ اس امر کا جماعت سے تعلق ہے اس لئے میں سنا دیتا ہوں۔میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان سترہ اٹھارہ برس کا ہے نہایت خوبصورت ایسا جیسا کہ مشہور ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام بینظیر خوبصورت تھے۔وہ نوجوان باہر سے آیا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے میری ذاتی دوستی ہے یہ نہیں کہ وہ احمد ی ہے بلکہ دوست معلوم ہو تا ہے۔اس سے احمدیت کا سوال پیدا نہیں ہو تا مگر اس کی حالت یہ ہے کہ جو اس سے ملتا ہے خوش ہو جاتا ہے وہ میرے ساتھ لگ کر بیٹھا ہوا ہے۔اس وقت میں نے دیکھا کہ ہمارے خاں صاحب ذوالفقار علی خاں صاحب آئے ہیں ان کو یہ بات عجیب معلوم ہوئی ہے اور وہ حیران ہیں۔میں