رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 3

3 اس رویا میں مولوی محمد حسین صاحب سے مراد دراصل ان کی سی طبائع والے لوگ ہیں کہ آخر وہ بھی احمدیت میں داخل ہوں گے۔الفضل 21 مارچ 1930ء صفحہ 8۔نیز دیکھیں۔الفضل 10 - مارچ 1931ء صفحہ 7 و 27 - اکتوبر 1932ء صفحہ 6 و 19 - فروری 1938ء صفحہ 4 و 12 مئی 1944ء صفحہ 2 و 9- جنوری 1ء صفحہ 3,4 - فروری 1956ء صفحہ 7-6 و2 - جون 1944ء 1963 4 1901 1900 فرمایا : مجھے ایک رؤیا یاد آیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جب کہ میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہو گی دیکھا تھا۔میں نے دیکھا قیامت کا دن ہے اور خدا کے حضور لوگوں کو پیش کیا جا رہا ہے۔خدا تعالیٰ ایک مضبوط خوبصورت جو ان کی شکل میں کرسی پر بیٹھا ہے۔دائیں طرف حضرت خلیفہ اول اور دوسرے کئی لوگ بیٹھے ہیں۔میں بھی انہیں میں ہوں۔وہاں ایک دائیں طرف کو ٹھڑی ہے ایک بائیں طرف۔اس وقت خدا کے حضور ایک شخص کو پیش کیا گیا جو بہت مضبوط اور بنو مند تھا۔اس کا چہرہ سرخ تھا۔یاد نہیں رہا خدا تعالیٰ نے اس سے کچھ پوچھایا نہیں اور اگر پوچھا تو میں نے نہیں سنا۔مگر بغیر اس کے کہ وہ جواب دیتا اس کے چہرے کی رنگت متغیر ہونے لگی اور ایسا معلوم ہوا کہ اسے کوڑھ ہو گیا ہے۔پھر اس کے جسم کا گوشت پوست پیپ بنے لگا آخر سر سے پیر تک وہ پیپ کا بن گیا۔اس پر فرشتوں نے کہا۔یہ جہنمی ہے آؤ ا سے جنم میں پھینکیں۔چنانچہ اسے بائیں طرف کی کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا۔پھر ایک اور شخص لایا گیا۔اللہ تعالٰی نے اس سے سوال نہیں کیا یا مجھے یاد نہیں رہا۔اس کا چہرہ چمکنے لگا اور اس کا سارا جسم نور کا بن گیا۔اس پر فرشتے بغیر خدا کے حکم کے کہنے لگے۔یہ جنتی ہے چلو اسے جنت میں لے جائیں چنانچہ اسے جنت میں لے گئے۔اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا تم اپنی پیٹھوں کی طرف دیکھو جس کے پیچھے پختہ دیوار ہے وہ جنتی ہے اور جس کے پیچھے دیوار کچی ہو وہ دوزخی ہے۔یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ وہاں پھر دکھائی نہ دیا اور ہم پر اتنی ہیبت طاری ہو گئی کہ کوئی ڈر کے مارے اپنے پیچھے نہ دیکھتا ہر ایک ڈرتا کہ نہ معلوم اسے کیا نظر آئے۔جب اس حالت میں عرصہ گزر گیا تو حضرت خلیفہ اول نے مجھے کہا تم میرے پیچھے دیکھو میں تمہارے پیچھے دیکھتا ہوں۔میں نے کہا بہت اچھا اور میں نے ڈرتے ڈرتے ان کے پیچھے دیکھا اور انہوں نے میرے پیچھے اور