رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 619 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 619

اس سے نیچے اتر کر پیدائش کا وقت ہے۔اس وقت بھی انسان میں ایک شعور پیدا ہوتا ہے اور وہ ایک نئی دنیا میں آتا ہے۔یعنی نباتی زندگی سے نکل کر وہ ایسی زندگی میں آتا ہے کہ جب اُس کے اعضاء میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ بیرونی اثرات سے متاثر ہو کر اپنے آپ کو پھیلانا چاہتا ہے۔اُس وقت شریعت غراء اسلام نے حکم دیا ہے کہ بچے کے کان میں آذان کہی جائے۔سلسلہ تقریر کے اس حصہ کے بیان کے بعد آنکھ کھل گئی اور ان دو مدارج کے اوپر کے مدارج مجھے یاد نہیں رہے لیکن اسی طرح بلوغت اور بڑھاپے کے متعلق قیاس کیا جا سکتا ہے اور اس مضمون پر نہایت لطیف پیرایہ میں غور کیا جا سکتا ہے مثلاً بڑھاپے کے متعلق قرآن شریف کی اس آیت سے لِكَيْلا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا ایک شعور کی تبدیلی کا پتہ چلتا ہے اور لطیف استدلال کیا جا سکتا ہے۔الحکم 7 - اگست 1920 ءجلد 23 نمبر 27