رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 618

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ضمیمه رو یا کشوف سیّد نا محمود 7- اپریل 1912ء 17 فرمایا: مجھے راستہ میں ایک الہام ہوا ہے: اِنَّكَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ - احكام می ۱۹۱۲ء 17 نمبر 13 جلد 16 4- اگست 1920ء فرمایا: آج رات میں نے ایک علمی رؤیا دیکھی ہے اور اس سے پہلے اس قسم کی چار رؤیا دیکھی ہیں۔-1 ایک خلافت کے متعلق۔- دوسری لولا النبض لقضى الحبض - +- تیسری الحمد کی تفسیر کے متعلق۔-۴- چوتھی خواجہ کے متعلق۔آج رات کو میں نے دیکھا کہ شعور کے متعلق مجھے سمجھایا گیا ہے اور میں اسے آگے بیان کر رہا ہوں اور نہایت لطف اور حظ اُٹھا رہا ہوں۔میں بیان کر رہا ہوں کہ شعور کے مختلف مدارج ہیں اور اس بات کے بیان کرنے میں اسلام کو دوسرے مذاہب پر خاص فوقیت ہے اور ہر درجہ شعور کے متعلق جو عمر کے ساتھ ساتھ پیدا ہوتا ہے مناسب تعلیم اور احکام دیئے ہیں۔میں ان مدارج کو اوپر سے نیچے کی طرف بیان کر رہا ہوں۔مثلاً انسانی عمر کے ساتویں سال میں بھی ایک تبدیلی واقع ہوتی ہے۔اس تبدیلی کے وقت شریعت اسلام نے حکم دیا ہے کہ بچے کو نماز پڑھائی جائے کیونکہ عمر انسانی کا یہ حصہ اخلاق اور عادات کے حصول کے لئے نہایت مناسب اور موزوں ہوتا ہے اور دراصل یہی وقت ہوتا ہے کہ جس میں اخلاق کی بنیا درکھی جاسکتی ہے۔