رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 613
613 لیکن خدا بھی خاموش نہیں اس کے فرشتے بھی خاموش نہیں وہ دفاع کے لئے پوری طرح تیار ہیں جب وقت آئے گا اور حقیقت حال تجربات کا لباس مکمل طور پر پہن لے گی تو سائنس دانوں پر کھل جائے گا کہ وہ ایک ایسے جال میں پھنس گئے ہیں جو دو سروں کے لئے بن رہے تھے لیکن اس وقت وہ پیٹ بھرتے بھرتے کسی اور چیز کے بھرنے کے قریب پہنچ چکے ہوں گے اور اس وقت ندامت کوئی فائدہ نہیں دے گی اس کے بعد میں نے دیکھا کہ دشمنوں کا ایک رسالہ میرے ہاتھ میں ہے اس میں کوئی اعتراض سکھوں کی شہادت کی بناء پر کیا گیا ہے میں نے اس رسالہ کا جواب لکھوانا شروع کیا اور ایک سکھ جو میرے سامنے بیٹھا تھا اسے کہا کہ کیا ایسی شہادت آپ کے پاس موجود ہے اس نے کہا میرے پاس تو کوئی ایسی شہادت موجود نہیں۔میں نے اسے کہا لکھ دیجئے کہ ایسی کوئی شہادت نہیں۔اس نے کہا میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ایسی کوئی شہادت موجود نہیں مگر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایسی کوئی شہادت مجھے معلوم نہیں۔اس پر میں نے اسے کہا کہ اچھا یہی لکھ دیجئے۔اس پر اس نے آمادگی ظاہر کی تو میں نے اس سے وہی تحریر لے لی اور یہی بات میں نے اس رسالہ کے جواب میں لکھ دی۔الفضل 22۔فروری 1959ء صفحہ 1 652 اکتوبر 1959ء فرمایا : مجھے بھی ایک دفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے رویا میں دکھایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا نور ایک سفید پانی کی شکل میں دنیا میں پھیلنا شروع ہوا ہے یہاں تک کہ پھیلتے پھیلتے وہ دنیا کے گوشے گوشے اور اس کے کونے کونے تک پہنچ گیا۔اس وقت میں نے بڑے زور سے کہا کہ احمدیوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتے ہوتے ایک زمانہ ایسا آئے گا۔انسان یہ نہیں کہے گا اے میرے رب اے میرے رب! تو نے مجھے کیوں پیا سا چھوڑ دیا بلکہ وہ یہ کہے گا کہ اے میرے رب اے میرے رب تو نے مجھے سیراب کر دیا یہاں تک کہ تیرے فیضان کا پانی میرے دل کے کناروں سے اچھل کر بہنے لگا۔الفضل 28۔اکتوبر 1958ء صفحہ 4 653 25 نومبر 1959ء فرمایا : میں نے کشف میں دیکھا کہ نواب صاحب بہاول پور مجھ سے ملنے کے لئے آئے ہیں