رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 612

612 649 1958 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک کمرہ میں بیٹھا ہوا ہوں کہ کسی شخص نے ایک گیس پھینکی میں نے اس گیس کو سونگھ کر کہا کہ اس میں سے تو کلورین کی بو آرہی ہے اور پھر اس کا خیال کرتے ہی میں باہر کی طرف بھاگا ( آنکھ کھلنے کے بعد میں نے بعض سائنس دانوں سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ بے ہوش کرنے والی گیس بھی کلورین سے ہی بنتی ہے مگر میں نے جو خواب میں گیس دیکھی تھی وہ عارضی بے ہوش کرنے والی ہی تھی) اس کے بعد مجھ پر سے بھی اثر جاتا رہا۔اس رویا سے بھی میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کرے گا کہ دشمن پر فوقیت بھی حاصل ہو جائے گی اور عام تباہی بھی نہیں آئے گی۔الفضل 23۔نومبر 1958ء صفحہ 3۔نیز دیکھیں۔تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ سوم 142 -141 650 دسمبر 1958ء فرمایا : میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے کسی نے خواجہ کمال الدین صاحب کو برا بھلا کہا مولوی محمد علی صاحب کو برا بھلا کہا ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو برا بھلا کہا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خاموش رہے لیکن جب اس نے شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کو برا بھلا کہا تو آپ نے فرمایا۔نہیں اس کو برا نہ کہو وہ تو بڑا مخلص انسان ہے۔الفضل 30۔جنوری 1959ء صفحہ 4 651 18۔فروری 1959ء فرمایا : صبح کے وقت سے کچھ پہلے کشفی حالت میں ایک القاء محسوس ہو ا جسے میں نے کشف کی حالت میں ہی لکھنا شروع کر دیا مگر کشفی تحریر جاگتے وقت تک کس طرح محفوظ رہ سکتی تھی جب میری آنکھ کھلی تو وہ تحریر میرے ہاتھ میں نہیں تھی بہر حال اس القاء کی قریب قریب تفصیل یہ ہے۔مجھے القاء ہوا کہ سائنس دان خیال کر رہے ہیں کہ وہ مذہب کو جھوٹا ثابت کر رہے ہیں