رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 587
587 میں یورپ میں ہوتا ہے جب میں اندر گیا تو میں نے دیکھا کہ اس عمارت کے وسطی حصہ کے سامنے جو مسقف ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھے ہیں آپ نے مہندی لگائی ہوئی ہے اور آپ کے چہرہ کا رنگ اور مہندی کا رنگ خوب روشن ہے جو اب تک میری آنکھوں کے سامنے پھرتا ہے۔میرے اندر جانے پر آپ کٹہرے کی طرف آئے گویا یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ باہر کون کون لوگ ہیں میں وسطی حصہ کے گرد چکر لگا کر پیچھے کی طرف چلا گیا اور میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرسی پر بیٹھے ہیں اس کی پشت کی عمارت کے پیچھے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کھڑے ہیں جیسے کوئی احترام یا حفاظت کے لئے کھڑا ہو تا ہے اتنے میں حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کٹہرے کے پاس جاکر اور تسلی کر کے واپس آگئے اور یوں معلوم ہوا جیسے کوئی خطرہ یا تو تھا ہی نہیں یا جاتا رہا۔عجیب بات ہے کہ فالج کے حملہ کے بعد اور ولایت سے واپسی کے بعد جب بھی مجھے رویا نظر آتی تھی تو شروع میں تو اس طرف جس طرف فالج کا حملہ ہوا تھا اندھیرا سا نظر آتا تھا اور بعد میں چہرے روشن نظر نہیں آتے تھے لیکن وہ رویا جو میں نے ایبٹ آباد میں دیکھا اور جس میں حضرت خلیفہ اول کو دیکھا اس میں کمرہ ، چار پائی ، چھری پلیٹ اور ام ناصر اور حضرت خلیفہ اول کی شکلیں مجھے صاف نظر آئیں اور دوسرے نظارے بھی مجھے صاف نظر آئے۔اسی طرح اب جو پرسوں 29 / 30 ستمبر کی درمیانی رات میں خواب دیکھی اس میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شکل صاف نظر آئی اور مکان کی شکل بھی صاف نظر آئی یہ ایک عجیب بات ہے کہ فالج کے حملہ کے معا بعد یورپ میں جو خواہیں نظر آئیں ان میں شکلیں صاف دکھائی دیتی تھیں لیکن سات آٹھ ماہ بعد وہاں سے واپسی پر خوابوں میں ایک دھند لکا سا نظر آتا تھا حالانکہ عقلاً اس عرصہ میں بیماری کم ہو گئی تھی اور ہو جانی چاہئے تھی۔اس کے بعد ایک وقفہ آیا اور اس وقفہ کے بعد ایبٹ آباد سے خواب کے نظارے صاف ہونے شروع ہو گئے اس فرق کا طبی راز تو شاید کوئی طبیب جانے اور روحانی راز میرے لئے خوشی کا موجب بنا ہے اور امید پڑتی ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر نیند کی حالت میں اور جاگنے کی حالت میں صحت کامل عطا فرمائے۔الفضل 4۔اکتوبر 1956 ء صفحہ 3