رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 581
581 اس پر بیٹھ گئے اس پر میں بھی چارپائی سے اتر کر ان کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے انہیں کہا کہ آپ نے حضرت خلیفہ اول کی صحبت میں بڑا وقت گزارا ہے اور آپ ان کے کمپونڈر رہے ہیں حضرت خلیفہ اول کو فالج کے علاج کا بڑا دعویٰ تھا آپ کو ان کے تجربات کا علم ہو تو مجھے بھی بتائیں اس پر انہوں نے بڑی لمبی باتیں شروع کر دیں مگر مجھے کوئی نسخہ یاد نہ رہا اور آنکھ کھل گئی۔مفتی فضل الرحمان صاحب چونکہ طبیب تھے اس لئے میں نے سمجھا کہ اب اللہ تعالٰی اپنی رحمانیت کے نتیجہ میں فضل نازل فرمائے گا چنانچہ اس رویا کے پانچ سات دن کے بعد ڈاکٹروں کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ معدہ اور انتڑیوں کا علاج کرنا چاہئے اور طبیعت سنبھل گئی۔الفضل 25۔اپریل 1956ء صفحہ 4 ایریل 1956ء 617 فرمایا : ہمارے ایک مبلغ کرم الہی صاحب ظفر ہیں جو سپین میں کام کر رہے ہیں ان کے والد حال ہی میں فوت ہوئے ہیں اگر میں پہلے ان کا جنازہ نہیں پڑھا چکا تو آج جمعہ کے بعد ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔اللہ بخش ان کا نام تھا یہ ایک عجیب بات ہے کہ کوئی شخص اتنے قریب عرصہ میں فوت ہوا ہو اور پھر وہ اتنی جلدی خواب میں مجھے نظر آگیا ہو۔بہر حال میں نے رویا میں دیکھا کہ وہ مجھے ملنے آئے ہیں اور انہوں نے ایک درخواست پیش کی ہے اس کا کاغذ ایسا ہے جیسے پرانے زمانے میں عدالتوں میں استعمال ہوا کرتا تھا اور درخواست انگریزی میں لکھی ہوئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر حکومت کرم الہی ظفر کو چین سے نکال دے تو اسے دو سال تک کسی اور جگہ رکھیں اور اس کا کام دیکھیں اگر اچھا ہو تو اسے رہنے دیں ورنہ اسے فارغ کر دیں بہر حال اتنی مدت تک دین کا کام کرنے کے بعد اسے فور آفارغ نہ کریں اس پر میں نے اس درخواست پر انگریزی میں یہ فقرہ لکھا I recommend to Tahrik-i-Jadid to consider it and not to reject it out of hand۔یعنی میں یہ درخواست تحریک جدید کو اپنی اس سفارش کے ساتھ بھجواتا ہوں کہ وہ اس پر غور کرے۔