رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 580

580 ہے وہاں بیٹھا ہوں چھتری میں میں نے ہار ڈالے ہوئے ہیں میں نے چابیوں کا ایک کچھا نکالا اور میں اپنی بیویوں سے کہتا ہوں کہ چابیوں کو زنگ لگ گیا ہے اور مجھے شبہ تھا کہ کہیں تالے کھولتے وقت وہ ٹوٹ نہ جائیں اس لئے میں نے نئی چابیاں بنوائی ہیں اب ہم تالے کھول کر اندر چلے جائیں گے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1956ء صفحہ 12 مارچ 1956ء 615 فرمایا : چند دن ہوئے مجھے رویا میں ایک عورت نظر آئی جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ اس نے مجھے غافل پا کر مجھ پر توجہ کی تھی خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ 1953ء کے فسادات میں چونکہ جماعت کے دشمن بری طرح خائب و خاسر ہوئے تھے اس لئے اس ناکامی کے بعد میرے متعلق ان کے اندر یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ کاش یہ شخص ختم ہو جائے کیونکہ یہ ہمارے راستہ میں روک بنا ہوا ہے اگر یہ رستہ سے ہٹ جائے تو یہ جماعت بھی ختم ہو جائے گی جب مجھے محسوس ہوا کہ اس عورت نے مجھ پر توجہ کی تھی تو میں نے اسے کہا کہ تم نے بے خبری کے عالم میں مجھ پر توجہ کرلی تھی اب مجھ پر توجہ کرو تو جانوں اتنے میں میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مرد اس عورت کو اشارہ کر رہا ہے اس پر اس عورت نے بھی انگلی سے اشارہ کیا میں نے اس وقت اس کی انگلی پر توجہ کی اور میں نے دیکھا کہ اس توجہ کے نتیجہ میں اس کی انگلی بالکل اکڑ گئی پھر میں نے اس کی انگلی کو پکڑ کر دیکھا تو وہ مڑتی نہیں تھی اس مرد نے اس کی انگلی مروڑی لیکن وہ نہ مڑی اس سے میں نے یہ سمجھا کہ میری یہ بیماری چونکہ دشمنوں کی ایک مخفی توجہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی تھی اس لئے اس کا تعلق زیادہ تر دعاؤں سے ہی ہے چنانچہ میں نے تجربہ کیا ہے کہ جن دنوں کثرت سے دعائیں ہوں مجھے آرام آنا شروع ہو جاتا ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1956ء صفحہ 81 نیز دیکھیں۔الفضل 8۔اگست 1956ء صفحہ 3 616 ریل 1956ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ مفتی فضل الرحمان صاحب آئے ہیں جہاں میں سوتا ہوں اس کے قریب ہی ایک قالین نماز کے لئے بچھا ہوا ہے میں نے دیکھا کہ مفتی صاحب آئے اور