رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 561
561 جیسے سکولوں میں ری سیس پیریڈ ہوتا ہے اس دوران ایک اور جھنڈا کھڑا کیا گیا ہے جس کا ستون فیروزی رنگ کا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ پاکستان کا جھنڈا ہے میں نے اور میرے ساتھیوں نے اس جھنڈے کی عزت کے قیام کے لئے بھی دعائیں کوں اور بعض جاہلوں نے اس جھنڈے کو سلام بھی کیا حالانکہ اسلام سے یہ طریق ثابت نہیں چند منٹ کے بعد وہ جھنڈا نظروں سے غائب ہو گیا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نشان دوبارہ ظاہر ہوا اور اس کے ظاہر ہوتے ہی میں اور میرے ساتھی پھر اس کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا شروع کیا اور آپ کے مدارج کی ترقی کے لئے دعائیں کرنی شروع کیں اس وقت نا معلوم کمزوری کی وجہ سے یا کسی اور مصلحت سے میں زمین پر منہ کے بل لیٹ گیا مگر ما تھا زمین پر مگر نہیں جیسے سجدہ کرتے ہیں بلکہ جیسے آرام کے لئے سینہ کے بل لیٹ جاتے ہیں اس حالت میں میں درود پڑھتا جاتا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعائیں کرتا جاتا تھا باقی میرے ساتھی کچھ کھڑے تھے کچھ بیٹھے تھے اسی حالت میں مجھے الہام ہوا کہ تَاجُ الْمَدِينَةِ نَزَلَتْ على رأسى (تاج) عربی زبان میں مذکر ہے مگر اس فقرہ میں غالب گمان یہی ہے کہ منونث استعمال ہوا ہے گو ادھر بھی خیال جاتا ہے کہ نزلت کی بجائے نکل ہی استعمال ہوا تھا اس کی حکمت آگے چل کر بیان کی جائے گی) مطلب یہ تھا کہ مدینہ کا تاج میرے سر پر اترا جس وقت یہ الہام ہوا ہے اسی وقت میں نے دیکھا کہ ایک تاج جو ایک لکڑی کے خوبصورت رنگ دار ڈبہ میں نہ کیا ہوا بند ہے میرے سر کے پاس منہ کے سامنے رکھا ہوا ہے اس وقت پھر دل میں القاء ہوا " تیجان" یہ لفظ تاج کی جمع ہے اور اس کے معنے ہیں بہت سے تاج سے اس لفظ کے القاء ہوتے ہی میں نے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھا تو میں نے دیکھا تیرہ چودہ آدمی کرسیوں پر بیٹھے ہیں سب کے سروں پر تاج ہیں اور وہ تاج بجائے دھات کے بنے ہوئے ہونے کے زری کی تاروں سے بنے ہوئے کپڑوں کے ہیں جو پگڑیوں کے گرد لپیٹے جاتے ہیں بیچ میں ایک شخص بہت جسیم اور قد آور بیٹھا تھا جس کے سر پر سب سے بڑا تاج ہے بلند بھی بہت زیادہ ہے اور گھیر میں بھی بہت زیادہ ہے مگر اس کے گرد جو لوگ بیٹھے ہیں ان کے سروں پر تاج ہیں تو اسی شکل کے مگر بعض کے چھوٹے ہیں اور بعض کے بڑے ہیں مگر ہیں سب اسی قسم کے۔شاید جو شخص درمیان میں دکھایا گیا۔وہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور جو لوگ اردگرد بیٹھے تھے وہ آپ کے نائب