رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 551

551 کر کے زور زور سے بول رہا ہے ہوش آتے ہی مجھے یوں معلوم ہوا جیسے وہ یہ کہہ رہا ہے کہ میرا تو اس معاملہ میں کوئی قصور نہیں میں تو دوسرے ہندوستانی افسر سے کہہ رہا تھا کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے مگر اس نے اصرار کیا اس پر میں نے بڑے جوش سے کہا تمہارا کیوں قصور نہیں تم کو بھی سزا دی جائے گی اس وقت میں نے سنا کہ دور کنارہ پر شور کی آواز آئی جیسے جنگ کی شدت میں لوگ آواز نکالتے ہیں جس میں کوئی الفاظ نہیں ہوتے میں نے سمجھا کہ یہ احمدی نوجوان ہے اور میں نے بلند آواز سے کہا یہ شخص شور کیوں کر رہا ہے اس پر دور میدان کے سرے پر بیٹھے ہوئے مجھے چوہدری مشتاق احمد باجوہ نظر آئے انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ اس شخص کا فلاں نام ہے (جو مجھے بھول گیا) آپ تو اس پر خفا ہو رہے ہیں کہ یہ شور کیوں کر رہا ہے اور میاں بشیر احمد صاحب اس پر اس لئے ناراض ہو رہے ہیں کہ تو کنارہ پر حملہ کر کے کیوں لوٹ آیا تو اس جگہ تک کیوں نہیں پہنچا جس جگہ خلیفہ المسیح تھے۔اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ وہ اعلان جو میں نے مختلف ہجو موں میں کیا تھا اس کو کسی نیک آدمی نے جماعت احمد یہ تک پہنچا دیا ہے جس پر جماعت احمدیہ کے بہت سے نوجوانوں نے دیوانہ وار حملے کر کے مجھے چھڑوانے کی کوشش کی اور وہ آواز بھی اسی سلسلہ میں سے ایک تھی لیکن وہ لوگ نظر نہیں آتے تھے جنات کی طرح آنکھوں سے اوجھل تھے بہر حال ان کی کوشش اور اللہ تعالیٰ کے فضل نے ایسے سامان کر دیئے کہ وہ لوگ جو تعذیب کے درپے تھے ڈر گئے اور حالات بدل گئے تب میں چارپائی پر سے اٹھا اور گھر کی طرف چل پڑا۔میں سمجھتا ہوں کہ میں قادیان میں ہوں جب مسجد مبارک والے چوک میں میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ میرے ساتھ ایک گروہ احمدیوں کا بھی ہے جو میرے پیچھے پیچھے چلا آ رہا ہے میں نے یہ سمجھ کر کہ تعذیب کی وجہ سے میرا بدن کمزور ہے میں کہیں گر نہ جاؤں ان لوگوں سے کہا کہ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ پھر میں نے مسجد مبارک کی پرانی سیڑھیوں پر چڑھنا شروع کیا اور ان احمدی نوجوانوں کو اشارہ کیا کہ میرے ساتھ آتے جاؤ اس وقت مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے دروازہ میں سے اس انگریز پولیس افسر اور ہندوستانی افسر کے ہاتھ آگے آئے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ مجھ سے مصافحہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں میں نے حقارت سے منہ موڑ لیا اور ان سے مصافحہ نہیں کیا اس پر ان دونوں نے السلام علیکم بڑے زور سے کہا میں نے ان کے سلام کا