رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 536

536 576 جون 1953ء فرمایا : آٹھ دس جون کی بات ہے کہ ساری رات میری زبان پر یہ مصرعہ جاری رہا کہ الٹی پڑ گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا یہ یاد نہیں رہا لفظ ” ہو گئیں" تھایا ” پڑ گئیں " بار بار اس مصرعہ کے جاری ہونے پر میرے دل میں گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ یہ ہمارے لئے انداری پیغام نہ ہو تو تہجد کے وقت میں یہ انکشاف ہوا کہ یہ انذاری پیغام نہیں ہے جس کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں یا تو کسی شخص کی عارضی مصیبت کی طرف اشارہ ہے یا ہمارے بعض مخالفوں کی طرف اشارہ ہے۔المصلح 27۔جون 1953ء صفحہ 3 577 جون 1953ء فرمایا : چودہ اور پندرہ جون کی درمیانی رات کو متواتر اور بڑے زور سے یہ الہام دیر تک ہوتا رہا أيْنَمَا وُ جِدُوا أَخِذُوا وَتُقِفُوا وَقتِلُوا تَقْتِيلاً شاید کئی درجن بار یہ الفاظ جاری ہوئے اس فقرہ کے قریباً تمام الفاظ قرآن کریم کے ہیں اور دو مختلف آیات کے الفاظ جوڑ کر بتغیر قلیل یہ فقرہ بنا ہوا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی وہ لوگ جن کا ذکر اس الہام میں ہے پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور پھر گرفت کو ان پر اور بھی مضبوط کر دیا جائے گا اور آخر میں وہ بالکل تباہ و برباد کر دیئے جائیں گے واللہ اعلم یہ کس گروہ کی طرف اشارہ ہے اگر تو یہ کسی سیاسی صاحب اقتدار لوگوں کی طرف اشارہ ہے تو پھر اس کے الفاظ ظاہر پر دلالت کرتے ہیں اور اس فقرہ کے الفاظ تشبیہہ اور استعارہ کے رنگ میں ہیں تو پھر گرفتاری اور قتل وغیرہ سے مراد محض شکست اور ناکامی کے ہیں۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب المصلح 27 جون 1953ء صفحہ 2 16 جون 1953ء 578 فرمایا : میں نے دیکھا کہ گویا قادیان کا نظارہ میرے سامنے ہے اور جس مکان میں میں ہوں