رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 532
532 تشریح کی یاد نہیں رہی۔الفضل 8۔فروری 1953ء صفحہ 2 570 فروری 1953ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک جگہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور ایک اور شخص بیٹھے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ایک ملک ہے جس کا رقبہ دولاکھ مربع میل ہے اس میں ایک لاکھ مربع میل اور شامل ہوتا ہے۔(ملک کا نام ذہن میں نہیں) اور اس ملک کے متعلق ایک پیش کوئی ہے کہ اس پر تاریکی کا زمانہ آنے والا ہے یہ خیال آتے ہی جس کمرہ میں ہم بیٹھے ہیں اس کے ایک کونہ کی دیوار سامنے سے ہٹادی گئی یا وہاں دروازہ ہے اسے کھول دیا گیا بہر حال اس کے کھیلنے سے سامنے کے علاقہ پر نظر پڑی تو معلوم ہو ا مغرب کا وقت ہے جیسے سورج ڈوبے پچیس تیں منٹ گزرے ہوتے ہیں روشنی کم ہو چکی ہے مگر راستہ وغیرہ نظر آتا ہے آدمی اور چیزیں بھی نظر آتی ہیں اس پر وہ تیسرا شخص حضرت مسیح موعود سے کہتا ہے کہ حضور ابھی اندھیرا نہیں ہوا ( یعنی پیش گوئی پورا ہونے کا وقت نہیں آیا ) اس پر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ تاریکی تو ہو گئی ہے (یعنی پیش گوئی کے لحاظ سے اتنی کافی ہے) یہ خدا جانے کہ اس وقت کون مقابلہ کرتا ہے اور کون مقابلہ نہیں کرتا۔الفضل 8۔فروری 1953ء صفحہ 2 571 فروری 1953ء فرمایا : دیکھا کہ میں باہر سے آیا ہوں کچے مکان بیر کس کی طرح ہیں میرے مکان میں ام متین ہیں پاس کے مکان میں پیر افتخار احمد صاحب اور پیر منظور احمد صاحب اور ان کی ہمشیرہ حضرت من خلیفہ اول کی اہلیہ ہیں جب میں مکان کے قریب پہنچا تو میں نے سنا پیر افتخار احمد صاحب اونچی آواز میں رو رہے ہیں اور شور کر رہے ہیں کہ میں مر گیا ہمارے پاس کچھ نہیں ہمارے پاس کھانے کو بھی نہیں۔میں نے جلدی سے اندر داخل ہو کرام متین سے کہا کہ اس وقت روپیہ بھجوائیں تو کھانا پیر صاحب نہیں پکواسکتے فوراً دودھ بھجوا دو اور جو کچھ گھر میں پکا ہے وہ بھی سب بھیجوا دو اس وقت معلوم ہوتا ہے مونگ کی دال پکی ہے چنانچہ انہوں نے برتن میں دودھ ڈالا ایک سینی میں دال ڈالی جو بعد میں بریانی بن گئی اور پیر صاحب مرحوم کی بہو مریم بیگم کو جو اس وقت موجود