رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 531

531 احتیاج کے لئے آئے تھے اس کے بعد اس خیال سے کہ خواب کی کچھ اور تعبیر ہوگی۔خواب ذہن سے اتر گئی جب مذکورہ بالا احباب ملنے کے لئے آئے اور انہوں نے باتیں شروع کیں تو غازی صاحب نے کہا کہ آپ ہمارے متعلق کوئی نشان دکھا سکتے ہیں میں نے کہا میں نجومی ہونے کا مدعی نہیں۔الہی سلسلوں میں خدا تعالیٰ جو کچھ بتائے اتنا کہہ دیا جاتا ہے اس سے زیادہ میرے اختیار میں نہیں اس وقت یہ رویا بالکل میرے ذہن سے اتری ہوئی تھی گو میں نے صبح کے وقت یہ رویا اپنی بیوی ام متین کو سنائی ہوئی تھی کچھ دیر اور گفتگو ہوئی تو غازی صاحب نے کچھ مخاصمانہ بلکہ معاندانہ رویہ اختیار کیا اس پر مجھے وہ رویا یاد آئی اور میں نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو وہ رویا سنائی اور کہا کہ مجھے خیال تھا کہ اس رویا میں خواجہ صاحب سے مراد ان کا کوئی رشتہ دار ہے۔پہلے میں نے فلاں شخص کو سمجھا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اس سے مراد نہیں پھر آپ آئے تو رویا بالکل بھول چکی تھی اب آپ کی باتوں کی وجہ سے یاد آگئی۔الفضل 8۔فروری 1953ء صفحہ 2 فروری 1953ء 569 فرمایا : میں نے دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ یہ کیا ہے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ پہلے ایک شخص ایک کام کرتا ہے اور پھر اسے خراب کر دیتا ہے یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔گو اس کے متعلق كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا (النحل : 93) والی آیت ایک کھلی مثال ہے (لیکن رویا میں اس طرف خیال نہیں گیا) میں اسے جواب میں لکھتا ہوں کہ دیکھو قرآن کریم میں آتا ہے اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ أَمَنُوا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ (الحدید : 17) اس آیت کا مفہوم کسی نے اس رنگ میں بتایا ہو گا کہ جو تم کو غلطی لگی۔اس میں اُمَنُوا کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ایمان لائے پھر ایمان کے ثمرات سے محروم رہ گئے کیونکہ ایمان کی غرض خد اتعالیٰ کا قرب ہو تا ہے لیکن مراد یہ نہیں کہ کامل ایمان ہوتے ہوئے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ مراد یہ ہے کہ ایمان تو اس غرض سے لائے تھے کہ خد اتعالیٰ کا قرب حاصل ہو مگر ایمان کے بعد مقصود کو بھول گئے اور اپنی محنت ضائع کر دی۔اس کے بعد کسی اور شخص نے ایک اور آیت پر اعتراض کیا مگر مجھے وہ آیت اور جو میں نے