رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 529

529 مومن اللی باتوں کے متعلق کبھی حقیقی ناپسندیدگی یا حقیقی انکار محسوس نہیں کیا کرتے بلکہ اگر کسی جگہ پر تردد یا تذبذب ان میں پایا جاتا تھا تو اس کا مطلب یہ ہو تا تھا کہ ہم اس بارہ میں مزید روشنی چاہتے ہیں اور حقیقتاً یہی مومن کا مقام ہے مومن کو جب کوئی حکم دیا جاتا ہے تو کسی قسم کا انقباض اس کے پورا کرنے میں محسوس نہیں کرتا بعض دفعہ عارضی طور پر وہ اس کی تشریح کی درخواست کرتا ہے لیکن اس کی تشریح ملے یا نہ ملے تسلی ہو یا نہ ہو وہ عمل میں پیچھے نہیں ہوتا اور حقیقی انقباض صرف منافق یا کمزور ایمان والا ہی محسوس کرتا ہے۔الفضل 24۔دسمبر 1952ء صفحہ 2 566 *1952-13/12 فرمایا : میں نے دیکھا کہ سید محمود اللہ شاہ صاحب مجھے ملنے آئے ہیں میں اور وہ بیٹھے ہیں۔پاس ہی غالبا میری وہ بیوی بھی ہیں جو محمود اللہ شاہ صاحب کی بھتیجی ہیں یعنی مہر آپا۔انہوں نے مجھے مخاطب ہو کر کہا کہ میری طبیعت آج اتنی خراب ہو گئی ہے کہ میں نے سکول کے لڑکوں سے کہدیا ہے کہ ادھر ادھر دور نہ جایا کرو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے پیچھے کوئی واقعہ ہو جائے۔اسی طرح میں آپ سے بھی کہتا ہوں کہ اگر آپ کا کہیں باہر جانے کا اراد ہو تو مجھے رخصت کر کے جائیں اور رخصت کے معنے میں اس وقت رویا میں جنازہ کے سمجھتا ہوں۔میں نے آنکھ کھلتے ہی اس رویا کا آخری حصہ ام متین کو بتا دیا کہ جن کی باری اس رات تھی لڑکوں والے حصہ کا میں نے ان سے ذکر نہیں کیا جس وقت یہ رویا ہوا اس وقت خیال بھی نہیں تھا کہ ان کی موت اتنی قریب ہے اس رویا کے تیسرے دن ان کو تھر مباسر (Thermbosis) کا حملہ ہوا جو ان کی موت کا باعث ہو گیا۔بعض اور خواہیں بھی اس عرصہ میں آئیں جو مجھے یاد تھیں مگر لکھوانے میں میں نے دیر کردی اور وہ ذہن سے اتر گئیں بہر حال ان چند ہفتوں میں جو رویا ہوئے ان میں سے ایک تو دوسرے دن ہی اور ایک تیسرے دن پورا ہو گیا۔ہاں ایک رویا یاد آگئی جو اوپر کی خوابوں سے ایک دو دن پہلے کی ہے چونکہ اہم تھی میں نے ام متین کو سنا دی ان کے ذہن سے بھی اتر گئی کل پرسوں ایک دوست کا خواب پڑھنے پر ان کو یاد