رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 523

523 میں جا کر بیٹھ گیا میرے ساتھ عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب بھی آکر بیٹھ گئے اور ان کے ساتھ ایک سرا شخص آکر بیٹھ گیا جس کو چ پر ہم بیٹھے ہیں اس کے ساتھ کی ایک کرسی خالی پڑی ہے اتنے میں ایک شخص آیا جو مکہ مکرمہ سے آیا ہے جس شخص نے آکر اس کو ملایا ہے وہ بتاتا ہے کہ انہوں نے احمدیت کی تعلیم سنی ہے اور یہ احمدی ہونے کے لئے آئے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ معزز اور آسودہ حال آدمی ہے انہوں نے مصافحہ کرتے ہوئے مجھے کچھ نذرانہ دیا وہ نذرانہ پاکستان کے سوسو کے نوٹوں کی صورت میں ہے شاید پانچ نوٹ ہیں نوٹ موجودہ نوٹ سے کوئی اڑھائی گنے بڑا ہے۔رنگ سبز ہی ہے لیکن بہت زیادہ خوشنما اور اعلیٰ درجہ کے ریشم کی طرح۔آنکھوں کو تراوت بخشتا ہے ان سے پہلے یا بعد کسی سلسلہ کے کام کے متعلق کوئی مسل ہے جو ذوالفقار علی خان صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب نے پیش کرنی ہے وہ مسل میاں بشیر احمد صاحب نے میری گود میں رکھ دی ہے اور یا تو اس عرب دوست نے جو نذرانہ دیا ہے وہ بعد میں دیا ہے اور میں نے اس مسل کے اوپر نوٹ رکھ دیئے ہیں یا وہ مسل بعد میں پیش ہوئی ہے لیکن میں نے اس کو نوٹوں کے نیچے رکھ دیا ہے بہر حال وہ مسل نوٹوں کے نیچے معلوم ہوتی ہے اس وقت ذوالفقار علی خاں صاحب برادر اکبر علی برادران مرحوم آگے کی طرف بڑھے اور میاں بشیر احمد صاحب سے کہا کہ وہ مسل پیش کر دی ہے انہوں نے کہا کہ ہاں پیش کر دی ہے اور یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ کاغذات میرے پاس ہیں انہوں نے جلدی سے وہ کاغذات اٹھائے ہیں اور اس کے ساتھ وہ نوٹ بھی اٹھالئے ہیں پھر یہ دیکھ کر کہ ان کاغذات کے ساتھ تو کچھ نوٹ بھی ہیں اور یہ خیال کر کے کہ یہ ان عرب صاحب کے ہی ہیں انہوں نے وہ کاغذات تو اٹھا کے دیکھنے شروع کر دئیے اور وہ نوٹ عرب صاحب کی جیب میں ڈال دیئے کہ یہ روپے آپ کے رہ گئے ہیں اس وقت میری جیب سے یا غالبا میرے ہاتھ سے دو روپے کا ایک نوٹ ان نوٹوں پر گرا ہے عرب صاحب نے غالبا یہ خیال کر کے کہ میرا نذرانہ واپس کر دیا گیا ہے نوٹ تو رکھ لئے مگر دو روپے جو میرے ہاتھ سے گر گئے تھے میرے دامن میں ڈال دیئے اس پر میری آنکھ کھل گئی۔اس خواب میں چار اہم شخصیتیں معلوم ہوتی ہیں سید رضا علی جو مذ ہبا بھی غالبا شیعہ تھے اور ان کے نام میں بھی علی آتا ہے اور ذوالفقار علی جو مذ ہبا سنی احمدی ہیں لیکن ان کے نام میں علی اور ذوالفقار آتا ہے اور عرب نوجوان جو کہ سلسلہ کی خبر سن کر سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے