رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 518

518 میری آنکھ کھلی تو میں نے ام متین سے کہا کہ چلو اندر بستر لے چلیں کیونکہ اب صبح کا وقت قریب ہے ممکن ہے کہ اس گلی کی طرف سے جو مسجد اقصیٰ کی طرف سے آتی ہے کچھ لوگ آئیں تو بے پردگی ہو مگرام متین کہتی ہیں کہ ابھی ٹھر جائیں کوئی نہیں آتا مگر میں نے اصرار کیا اور بستر اٹھانا شروع کیا بستر کا ایک حصہ اٹھا کے میں مسجد مبارک کی سیڑھیوں پر سے چڑھا۔مسجد مبارک کی سیڑھیوں میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی زمانہ میں ایک چھوٹا دروازہ کھلتا تھا وہ وہاں موجود ہے میں نے اس پر دستک دی پہلی بار دستک دی مگر کوئی نہیں بولا دوسری دفعہ دستک دینے پر اندر سے آواز آئی۔کون ہے۔اور میں نے بتایا کہ میں ہوں۔دروازہ کھولو۔اس پر حضرت اماں جان) کی ایک مرحومہ خادمہ جن کا نام سردار تھا اور جو نو مسلمہ تھیں ہندو سے مسلمان ہوئی تھیں ان کی آواز آئی کہ حضرت صاحب ہیں دروازہ کھولو اور آگے بڑھ کے انہوں نے اور ایک اور عورت نے دروازہ کھول دیا میں نے بستر کا وہ حصہ جو اٹھا کے لایا تھا وہاں رکھ دیا اور میں نے کہا۔ابھی دروازہ کھلا رکھو میں باقی بستر لاتا ہوں جب میں واپس آنے لگا تو انہوں نے کہا کہ ہم کچھ آدمی ساتھ بھیج دیں وہ بستر اٹھا لائیں میں نے انہیں منع کیا او کہا کہ میں خود ہی بستر اٹھا لاتا ہوں واپس جاکر میں نے کچھ حصہ اور بستر کا اٹھایا اور ام متین سے کہا کہ میں یہ چھوڑ آؤں تو پھر باقی بستر اٹھا کر لے جاؤں گا اور تم بھی ساتھ ساتھ چلے چلنا لیکن جب میں یہ بستر چھوڑنے جارہا تھا تو میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 17 - اگست 1952ء صفحہ 3 14۔اگست 1952ء 559 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ ہم کہیں ربوہ سے باہر کسی شہر میں ہیں جمعہ کا دن ہے اس جگہ کی جماعت اچھی خاصی بڑی ہے اور میں جمعہ پڑھنے کے ارادہ سے تیاری کر رہا ہوں۔عزیزم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بھی وہاں ہیں جمعہ کی تیاری کرنے کے بعد گھر کے ایک بڑے کمرہ میں سنتیں پڑھنے میں مشغول ہو گئے یہ مجھے اب یاد نہیں رہا کہ کس خیال سے آیا بیماری کے خیال سے یا کسی اور خیال سے میں نے نماز ہی میں خیال کیا کہ آج جمعہ میں نہ پڑھاؤں بلکہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پڑھائیں۔اس وقت نماز میں ہی مجھ پر خطبہ کے متعلق کچھ انکشافات شروع ہوئے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی اعلیٰ زندگی کے دو حصے ہوتے ہیں ایک