رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 519
519 اخلاقی اور ایک روحانی۔کچھ امور اخلاقی زندگی کے ستون کے طور پر ہوتے ہیں اور کچھ روحانی زندگی کے ستون کے طور پر ہوتے ہیں اور ان دونوں زندگیوں کے متعلق یہ قاعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے سعید بندوں کے دل میں کسی ایک یا ایک سے زیادہ مضمونوں میں مناسبت رکھ دیتا ہے اس مناسبت کی ادنی صورت تو یہ ہوتی ہے کہ اس شخص کے دل میں ان اعمال کے کرنے کی خواہش بڑے زور سے پیدا ہوتی ہے اور وہ گویا ان اعمال کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھنے لگتا ہے اور اس کا اعلیٰ مقام یہ ہوتا ہے کہ وحی خفی کے طور پر اس ایک خلق یا ایک سے زیادہ اخلاق کی طرف اس کی توجہ پھیری جاتی ہے اور وہ ان کا مبلغ بن جاتا ہے اور دیوانہ وار بنی نوع انسان میں ان کی اشاعت کرنے لگ جاتا ہے۔جو روحانی حصہ ہے مذہبی رنگ کا اس میں بھی اسی طرح ہوتا ہے کہ پہلے انسان کی فطرت میں کچھ مضمون رکھے جاتے ہیں اس کے بعد ایک خاص زمانہ میں اللہ تعالیٰ وحی جلی یعنی وحی اور الہام کے ذریعہ سے اس شخص کو ان مضامین کی طرف توجہ دلاتا ہے اور نہ صرف خود وہ کام کرنے لگ جاتا ہے بلکہ ان کی تبلیغ میں مشغول ہو جاتا ہے اور اس کام میں بالکل محو ہو جاتا ہے جو لوگ پہلے حصہ یعنی اخلاقی حصہ کی وحی خفی پاتے ہیں ان میں غیر مذاہب کے بعض سعید الفطرت لوگ بھی ہوتے ہیں مگر زیادہ تر بچے مذہبوں کے ماننے والے ہوتے ہیں یہ لوگ اخلاقی حصہ کی اتباع تو اپنی فطرت اور وحی خفی سے کرتے ہیں اور روحانی حصہ کی اتباع اپنی فطرت اور نبی کی وحی جلی کے تحت کرتے ہیں نبیوں کو دونوں حصوں کا علم بخشا جاتا ہے لیکن فرق یہ ہوتا ہے کہ اخلاقی حصہ پہلے انہیں طبیعت اور وحی خفی سے ملتا ہے اور پھر بعد میں وحی جلی میں وہی علم زیادہ وضاحت کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔پھر مجھے بتایا گیا کہ صلحاء کو اخلاقی حصے کا علم طبیعی اپنے اپنے درجہ کے مطابق ایک ایک دو دو تین تین چار چار قسم کے ملتا ہے حتی کہ طبیعت تامہ کاملہ جو ہوتی ہے اس کو سارے اخلاق کا علم ودیعتاً اور وحی خفی کے ذریعہ سے بھی ملتا ہے اسی طرح روحانی امور کا حصہ بھی انبیاء کو ایک ایک دو دو تین تین چار چار قسم کا ملتا ہے مگر انسان کامل کو سارے اقسام کا علم ملتا ہے جب مجھے یہ مضمون سمجھایا جا رہا تھا تو دو تختیاں بھی میرے سامنے پیش کی گئیں جو ہیں تو الگ لیکن جڑی ہوئی ہیں ان کی شکل کچھ اس قسم کی ہے۔