رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 517
517 اس کے ساتھ ایک کمرہ ہے۔وہ کمرہ بھی ابتدائی زمانہ میں ہوا کرتا تھا اور میں اسی میں پڑھا کرتا تھا اس کمرہ میں ہماری کچھ اور رشتہ دار عورتیں بھی ہیں۔میں جب وہاں گیا تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کا وقت ہے۔کسی نے کہا۔دستر خوان بچھائیں اور دستر خوان بچھانا شروع کر دیا۔بہت سی عزیز عورتیں اور بچے جن میں سے بعض کسی قدر دور کے رشتہ دار بھی ہیں کھانے کے لئے بیٹھ گئے جو عورتیں دور کی عزیز ہیں وہ بجائے سامنے کی صف میں بیٹھنے کے پہلو کی صف میں بیٹھیں تا کہ پردہ بھی قائم رہے اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 17۔اگست 1952 صفحہ 3 557 اگست 1952ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ بیٹھا ہوں اور کوئی سوڈیڑھ سو کے قریب احمدی میرے ارگرد بیٹھے ہیں سب کے لباس سفید ہیں اور پگڑیاں بڑی بڑی باندھی ہیں اور وہ بھی سفید ہیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں میں سے بعض کے دل پر میری مخالفت کا کچھ بوجھ ہے مگر بوجھ اس رنگ میں ہے کہ بعض لوگوں کو تو شہادت مل رہی ہے اور ہم شہادت سے محروم ہیں۔میں ان لوگوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ یہ نہ سمجھو کہ انعامات وہی لے گئے ہیں جو شہید ہو گئے تم لوگ بھی جو اپنے دل میں اس بات کی امید رکھتے ہو کہ خدا کی راہ میں اگر ہم مارے جائیں تو کوئی پرواہ نہیں اس میں ہماری خوش نصیبی ہے ویسے ہی شہید ہو جیسے وہ لوگ جو کہ عملاً شہید ہوئے ان کا عملاً شہید ہونا ان کے کاموں کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا تعالٰی کے فعل کا نتیجہ ہے اگر تم شہید نہیں ہوئے تو خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا نہیں کئے کہ تم شہید ہو جاتے پس اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ تم کو شہادت کے مرتبہ سے محروم نہیں کرے گا بلکہ خدا تعالیٰ کی نظروں میں تم بھی ویسے ہی شہید ہو جیسا کہ وہ لوگ جو کہ ملا شہید ہو گئے۔الفضل 17۔اگست 1952ء صفحہ 3 558 اگست 1952ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ گویا ہم قادیان میں ہیں اور رات کا وقت ہے میں اور ام متین وہاں سو رہے ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ گھر کے اندر نہیں سو رہے بلکہ اس چوک میں سو رہے ہیں جو کہ مسجد مبارک کے سامنے اور مرزا نظام الدین صاحب کے مکان کے سامنے ہے تہجد کے وقت