رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 505

505 اندر کی طرف میرا بیٹا تھا اور کنارے پر ڈاکٹر صاحب تھے سانپ کے گزرنے کے بعد دونوں کھڑے ہوئے اور ان سے معلوم ہوا کہ وہ بغیر کسی ضرر کے بچ گئے ہیں اس پر پھر میں گھر کی طرف آگیا اور میں نے آواز دی کہ شیخ صاحب کا کیا حال ہے اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ انہیں چارپائی پر لٹا دیا گیا ہے کسی عورت نے میرے اس سوال کے جواب میں کہا کہ شیخ صاحب کو ایک سو ساڑھے پانچ درجہ (5ء105) کا بخار ہے میں نے جواب میں کہا کہ شیخ صاحب کو تسلی دلائیں۔بخار کے معنے یہ ہیں کہ زہر انشاء اللہ ملک نہیں ہو گا کیونکہ زہر جلد کی طرف آگیا ہے دل کی طرف اس کا زور نہیں۔پھر میں ایک دوسرے دالان کی طرف گیا جہاں میں سمجھتا ہوں میری ہو میو پیتھک دوائیں پڑی ہیں تاکہ میں کوئی ہو میو پیتھک دوائی لا کر جلدی سے دے دوں مگر پھر کسی وجہ سے میں بغیر دوائی کے ہی واپس آگیا ہوں اور پھر ڈاکٹر صاحب کی طرف چلا ہوں کہ دیکھوں کہ ابھی تک پہنچے کیوں نہیں۔اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ شام کا وقت ہو گیا ہے اور اند ھیرا ہو رہا ہے۔جس دالان میں میں ٹہل رہا ہوں اس میں گھر کے پرانے اتارے ہوئے کپڑوں کا ایک ڈھیر فرش پر پھیلا ہوا ہے۔دالان کے کنارے پر شیخ نورالحق صاحب جو میری زمینوں کے دفتر میں کام کرتے ہیں بیٹھے ہوئے ہیں پاس ہی ایک ہری کین لالٹین پڑی ہے اور ایک سرے پر ایک اور لالٹین نظر آتی ہے گو وہ چھوٹی ہے مگر اس کی روشنی بجلی سے مشابہہ ہے میں ان دونوں روشنیوں کو اس بڑے دالان کے لحاظ سے کافی نہیں سمجھتا اس لئے میں نے شیخ نور الحق صاحب کو کہا کہ بازار جا کر موم بتیوں کے ایک دو بنڈل خرید لاؤ تاکہ گھر کو اچھی طرح روشن کیا جا سکے۔مگر میں ان کو کہتا ہوں موٹی موم بتیاں لانا پتیلی موم بتیاں نہ لانا۔یہ کہتے ہوئے مجھے یوں معلوم ہوا جیسے میرے پیچھے کی طرف سے سرسراہٹ ہوئی ہے اس پر میں نے پیچھے کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ ان میلے کپڑوں کے ڈھیر میں سے نکلتا ہو اوہی اژدھا دو ڑ کر مجھے پر حملہ کرنے کے لئے چلا آرہا ہے اور میرے پیروں تک پہنچ چکا ہے لیکن جونہی میری نظر اس کی نظر سے ملی تو وہ بے تحاشاڈر کے بھاگا چونکہ اس کا کچھ حصہ میرے پاؤں کو چھوا ہے۔مجھے خیال آیا کہ شاید سانپ نے مجھے کاٹا ہے میں نے اونچی آواز سے کہا کہ سانپ نے میری ایڑھی پر کاٹا ہے اس وقت میرے دل میں خیال آتا ہے کہ آدم کو بھی اس کی ایڑی پر سانپ نے کاٹا تھا میری آواز سن کر شیخ نور الحق صاحب موم بتیاں لانے کا کام چھوڑ کر فوراً اس جگہ کی طرف دوڑے گئے ہیں