رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 485
485 میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو اپنے ملک سے غداری کرنے لگے تھے اور اس کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے اور میں نے تم لوگوں کو بتایا کہ تمہارے لئے موقع ہے کہ تم ملک کو نقصان سے بچالو اور پیشتر اس کے کہ وہ ملک سے غداری کریں تم ان کا مقابلہ کرو لیکن تمہارے بڑے لوگوں نے تمہیں یوں ورغلا دیا کہ یہ مرزائی ہے اور ان کو مارنا گویا عین ثواب ہے حالانکہ مرزائی اور احمدی ہونے کے صرف یہی معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک آواز آئی اور ہم نے اس کو قبول کر لیا۔اگر خداتعالی کی آواز کو قبول کرنا انسان کو واجب القتل بناتا ہے تو لو میں تمہارے سامنے کھڑا ہوں میری چھاتی تنگی ہے تم مجھ پر حملہ کرو اور مجھے مار ڈالو۔پھر میں نے بڑے جوش سے کہا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص شوق رکھتا ہے کہ اس شخص کو قتل کرے جس نے خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہا تو اس کے لئے آج بہت اچھا موقع ہے میں موجود ہوں وہ اپنی اس خواہش کو پورا کر لے۔مگر جب میں نے یہ باتیں بڑے جوش سے کیں تو بجائے اس کے کہ وہ لوگ مجھ پر حملہ کرتے ان کے چہرہ سے ڈر اور خوف کے آثار ٹپکنے لگے اور انہوں نے پانی میں پیچھے کی طرف ہٹنا شروع کیا گویا میں ان پر حملہ کر رہا ہوں اور وہ بھاگ رہے ہیں۔میں بھی ان کی طرف بڑھتا چلا گیا اور بار بار میں نے اوپر والی باتیں دہرانی شروع کیں اور ہر دفعہ ان کا خوف بڑھتا ہی چلا گیا اور وہ پیچھے ہٹتے چلے گئے یہاں تک کہ وہ ساری نہر گذر کر خشکی پر چلے گئے اور گاؤں تک پہنچ گئے۔میں نہر کے کنارے کھڑا ہوا یہی باتیں بار بار دہراتا چلا جاتا ہوں۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ اب ان لوگوں کے دل میں خدا تعالیٰ کی خشیت پیدا ہو گئی ہے اگر میں پھر ان کو پہلی بات کی طرف بلاؤں تو یہ لوگ میری بات کو مان لیں گے۔تب میں نے پھر ان سے کہنا شروع کیا کہ اے لوگو کچھ لوگ تمہارے ملک سے دشمنی کرنا چاہتے ہیں۔میں نے تم کو وقت پر ہوشیار کیا اور تم کو بتایا کہ اگر تم چاہو تو پیشتر اس کے کہ وہ تمہارے ملک کو نقصان پہنچائیں تم ان کے شر کا ازالہ کر سکتے ہو مگر بجائے اس کے کہ تم میری بات سے فائدہ اٹھاتے تم نے مرزائیت اور احمدیت کا سوال اٹھا دیا اور یہ نہ سمجھے کہ اس معالمہ میں مرزائیت اور احمدیت کا کیا تعلق ہے۔تمہارے اپنے ملک کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔اب بھی میں تمہیں کہتا ہوں کہ میرا قصور سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ خدا تعالیٰ نے ایک آواز بلند کی اور میں نے اس کو سن کر قبول کر لیا یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کی وجہ سے تم خود اپنے ملک سے دشمنی کرنے