رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 476
476 قصائی ہیں۔ان کے اچھے مضبوط جسم اور سفید کپڑے ہیں۔ان سے معلوم ہوا کہ وہ مضبوطی سے اسلام پر قائم ہیں۔وہ لوگ مجھے بڑے شوق سے آکر ملے اور اپنے حالات سنانے شروع کئے۔باتوں باتوں میں انہوں نے کہا کہ ہمارے کچھ رشتہ دار پاکستان میں ہیں ہم انہیں کچھ روپیہ بھیجوانا چاہتے ہیں۔کیا آپ اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں۔ان کی باتوں سے معلوم ہوا کہ ان کی مالی حالت اچھی ہے۔میں نے ان سے کہا کہ یہ تو شاید ناجائز ہو مگر آپ لوگ قادیان میرے پاس آئیں وہاں ہم مشورہ کریں گے کہ کوئی قانونی صورت اس قسم کی نکل سکتی ہیں یا نہیں۔الفضل 15۔جون 1951ء صفحہ 3 جون 1951ء 523 فرمایا : میں نے دیکھا کہ گویا میں ہندوستان کے کسی شہر میں ہوں۔مغربی بنگال یا بہار کی طرف معلوم ہوتی ہے کچھ لوگ میرے پاس ملنے کے لئے آئے جو تعلیم یافتہ اور رؤساء معلوم ہوتے ہیں۔میں اس وقت ذکر الہی کر رہا ہوں۔بجائے اس کے کہ میں ذکر الہی چھوڑ کر ان سے باتیں کرتا اپنی عادت اور سلسلہ کے دستور کے خلاف میں نے ذکر الہی بلند آواز سے کرنا شروع کر دیا جیسے پرانے زمانہ میں صوفیاء کیا کرتے تھے۔اس وقت میری آواز میں نہایت ہی سوز و گداز پیدا ہوا اور میں نے محسوس کیا کہ اگر میں ان کو تبلیغ کرتا تو ان پر اتنا اثر نہ ہو تا جتنا کہ ذکر الہی سے ان پر ہوا ہے اور مجھے محسوس ہوا کہ ان لوگوں کے دل آپ ہی بدلتے جا رہے ہیں اور احمدیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب میں اس جگہ پر پہنچا ہوں تو وہ عصر کا ابتدائی وقت ہے اور سفر میں ظہر کی نماز کا وقت گزر گیا ہے اور ہم نے اکٹھی نمازیں پڑھتی ہیں۔میں نے نماز کا خیال کر کے ذکر الٹی کو ختم کر دیا اور ان لوگوں سے کہا کہ ہم نے نماز پڑھنی ہے ایک بڑھا آدمی جو بہت فهمیدہ بھی معلوم ہوتا ہے اور رئیس بھی معلوم ہوتا ہے اس کی سفید ریش بہت اچھی اور بھلی معلوم ہوتی ہے۔اس نے کہا بہت اچھا۔ہم بھی ساتھ ہی نماز پڑھیں گے۔آپ وضو کیجئے چنانچہ سب لوگ اٹھ بیٹھے مجھے وہ شخص ایک غسل خانہ میں لے گیا وہاں کسی نوکر سے اس نے کہا ان کو وضو کراؤ ایک پیتل کا خوبصورت لوٹا صراحی کی شکل کا رکھا ہوا ہے جس سے میں نے وضو کرنا شروع کیا ہے جب میں وضوء کر کے فارغ ہوا اور اس کمرہ کی طرف گیا جہاں نماز