رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 473
473 اس پار بھی اور اس پار بھی یعنی ڈیرہ غازی خان میانوالی کیمل پور اور صوبہ سرحد کے علاقوں تک بھی اس کا اثر جائے گا یا ان علاقوں میں سے اکثر حصوں پر ان کا اثر پڑے گا دونوں طرف " سے یہ شبہ پڑتا ہے کہ خدانخواستہ اس سے کسی طوفان کی طرف اشارہ نہ ہو کیونکہ بظاہر دونوں طرف ظاہر ہونے والا نشان دریا کی طغیانی معلوم ہوتی ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی۔ہمیں بھی اس انتظار میں رہنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ جس صورت میں چاہے نشان دکھائے۔ہاں یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ یہ نشان ہمارے لئے کئی رنگ میں مبارک ہو گا۔الفضل 29 مارچ 1951 ء صفحہ 3۔نیز دیکھیں۔الفضل 4 نومبر 1955ء صفحہ 4 519 جون 1951ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور وہاں ایک بہت بڑی مسجد ہے میں نماز پڑھانے کے لئے جا رہا ہوں۔جب میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ سینکڑوں آدمی لمبی لمبی قطاروں میں بیٹھے ہوئے امام کا انتظار کر رہے ہیں۔میں مسجد میں داخل ہوا اور مصلیٰ پر جاکر کھڑا ہو گیا اور میں نے نماز پڑھانی شروع کر دی اس وقت حالات کا خیال کر کے کہ یہاں خدا تعالٰی نے کتنے لوگوں کو جمع کیا ہوا ہے اور کتنی بڑی مسجد ہے جس میں لوگ انتظار کر رہے ہیں طبیعت میں نہایت ہی رقت پیدا ہوئی اور میں نے سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف کی کوئی سورۃ یا اس کا کوئی حصہ نہایت ہی سوز اور جذب سے پڑھنا شروع کیا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کے اثر سے تمام فضا معطر ہو رہی ہے نماز پڑھاتے پڑھاتے جب میں سجدہ میں گیا تو معلوم ہوتا ہے کہ جوش کی حالت میں کلمات تسبیح بھی میں کسی قدر بلند آواز میں پڑھتا ہوں تلاوت کی طرح بلند نہیں لیکن اتنی آواز میں کہ وہ سنے جاسکتے ہیں جب میں سجدہ میں گر رہا تھا تو یوں معلوم ہوا جیسے میری آنکھ کھل گئی اور اپنی چارپائی پر لیٹے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ میں جاگ رہا ہوں میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ گویا میں دو وجود ہوں میرا ایک وجود نماز پڑھا رہا ہے اور ایک وجود چار پائی پر لیٹا ہوا ہے اور میرا وہ وجو د جو نماز پڑھا رہا تھا اس نے میرے پہلو میں سجدہ کیا اور اس کی تسبیح کی آوازیں مجھے آرہی تھیں اس کے بعد کشف کی حالت جاتی رہی۔الفضل 15 - جون 1951ء صفحہ 3