رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 472
472 ہوئی چیز ہو گی جس کو ہم بعض شرائط کے ساتھ دیں گے (اب بھی اگر گورنمنٹ ایسی شرطیں لگا کر کسی کو سرکاری زمین دے تو وہ جائز ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اعتراض صرف اس پر ہے کہ حکومت لوگوں کی کامل ملکیت والی چیزیں چھین لے یا ان پر نئی قیدیں لگا دے) پھر میں نے کہا کہ اس سکیم میں میں نے ایک بڑی حکمت مد نظر رکھی ہے۔جب میں پندرہ ایکٹر زمین فی خاندان دوں گا حالانکہ ان میں سے بہتوں کے پاس پہلے اس سے کم زمین ہو گی تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان لوگوں کو ہم سے محبت ہو جائے گی اور ان کا میلان اسلام کی طرف ہو جائے گا اور یہ جو کاشت کے متعلق تعاون باہمی کی میں نے بعض شرائط لگائی ہیں اس میں میری یہ حکمت ہے کہ اس بات کی نگرانی کے لئے اور اس رنگ میں کام چلانے کے لئے افسر مقرر کرنے پڑیں گے اور میں وہ افسر مبلغ ہی مقرر کروں گا۔اس طرح آہستہ آہستہ ان لوگوں میں اسلام پھیل جائے گا۔اور یہ علاقہ مسلمان ہو جائے گا۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 29۔مارچ 1951ء صفحہ 3 17/18۔مارچ1951ء 518 فرمایا : 17 یا 18 مارچ کی شب کو مجھے یہ الہام ہوا کہ ”سندھ سے پنجاب تک دونوں طرف متوازی نشان دکھاؤں گا" جس وقت یہ الہام ہو رہا تھا میرے دل میں ساتھ ہی ڈالا جاتا تھا کہ متوازی کا لفظ دونوں طرف کے ساتھ لگتا ہے اور دونوں طرف سے مراد یا تو دریائے سندھ کے دونوں طرف ہیں اور یا ریل یا سڑک کے دونوں طرف ہیں جو کراچی اور پاکستان کے مشرقی علاقوں کو ملاتی ہے۔اسی طرح میرے دل میں یہ ڈالا گیا کہ یہ نشان ہمارے لئے مبارک اور اچھے ہوں گے یہ ضروری نہیں کہ ہر مبارک چیز اپنی ساری شکل میں ہی خوش کن بھی ہو۔بعض دفعہ انذاری نشان بھی خدائی سلسلوں کے لئے مبارک ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ سے لوگوں کی توجہ صداقت کے قبول کرنے کی طرف پھر جاتی ہے۔بہر حال اس الہام سے ظاہر ہے کہ کوئی ایسا بڑا نشان یا ایسے کئی نشان ظاہر ہوں گے جو کہ دریائے سندھ کے جنوبی علاقوں یا شمالی علاقوں یا ریل کے جنوبی علاقوں یا شمالی علاقوں میں عمومیت کے ساتھ وسیع اثر ڈالیں گے جس کے یہ معنی بھی بنتے ہیں کہ شمالی اور جنوبی سندھ یا بلوچستان تک ان کا اثر جائے گا اور ادھر دریائے سندھ کے