رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 463

463 میں یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ کے زمانہ میں ظاہر ہوئے تھے۔اس کے بعد نہایت محدود رنگ میں اور محدود مقامات میں چند ملکوں میں اور چند افراد کے ذریعہ سے ان کا ظہور ہوا پھر دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کے ظل کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں نہایت شان سے ظاہر ہوئے اور انہی میں سے خدا تعالٰی نے مجھے بھی حصہ عطا فرمایا مگر میں دیکھتا ہوں کہ جماعت جہاں علمی طور پر استفادہ کر رہی ہے وہاں روحانی اور وقتی مظاہر سے فائدہ اٹھانے کی طرف اس نے کم توجہ کی ہے اگر جماعت کے لوگ اس زمانہ کی اہمیت کو سمجھتے اور ان مظاہر کی عظمت کو محسوس کرتے تو یقیناً ان کی حالتیں بدل جاتیں اور وہ خدا تعالیٰ کے بالواسطہ فضلوں کو جذب کرتے کرتے اس کے بلاواسطہ فضل بھی جذب کرنے لگتے اور دنیا کے پردہ پر ہزاروں لاکھوں مومن ہی نظر نہ آتے ہزاروں لاکھوں ولی اللہ نظر آتے۔الفضل 23۔نومبر 1950ء صفحہ 3 506 تمبر 1950ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ پاکستان کے ایک صوبے کے گورنر میرے گھر پر آئے ہیں اگر تعبیر نام سے لی جائے تو پھر تو خیر مبارک تعبیر ہے لیکن اگر ظاہر سے تعبیر لی جائے تو علم الرؤیا کے مطابق ایک غیر اور صاحب اقتدار شخص جب کسی کے گھر آئے تو اس کی دونوں تعبیریں ہوتی ہیں یعنی یا اس سے کوئی بڑا خیر ملتا ہے اور یا کسی شر کا وہ موجب ہو جاتا ہے چنانچہ اس رویا کے کوئی مہینہ بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ صاحب جن کو میں نے اپنے گھر پر آئے دیکھا تھا انہوں نے کسی موقع پر احمدیت کے خلاف بعض ناواجب کلمات کہے اور اس طرح وہ رؤیا انہوں نے پوری کر دی۔الفضل 23۔نومبر 1950ء صفحہ 2 نومبر 1950ء 507 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں کسی جگہ پر ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سب سے چھوٹی چچا زاد بہن فضل النساء بیگم صاحبہ جن کو میں نے صرف ایک دو دفعہ بچپن میں دیکھا تھا وہ اس جگہ پر ہی ہیں جہاں کہ میں ہوں اور میں خواب میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ فوت