رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 462

462 تم دوسروں کو یہ دھوکا دینا چاہتے ہو کہ گویا میں نے خود تم کو بلوا کر اس کے خلاف مجلس میں یہ باتیں کہلوائی ہیں۔اس پر وہ اس شخص کی طرف منہ کر کے جو اس آدمی کا دوست ہے جس کے خلاف باتیں کر رہا ہے کہتا ہے کیوں صاحب کیا آپ کے خیال میں میری باتوں سے یہی نتیجہ نکلتا ہے وہ غیر احمد ی ہے مگر وہ اس کے جواب میں کہتا ہے کہ ”اس کے سوا اور کیا نتیجہ نکل سکتا ہے" اور اس جواب میں سے اس کا منشاء مجھ پر طنز کرنا نہیں بلکہ اس کو ملامت کرنا ہے کہ تم نے جو بات کی ہے وہ احمقانہ ہے اور اس سے یہی دھوکا لگتا ہے کہ گویا انہوں نے خود بلوا کر مجلس میں یہ باتیں کروائی ہیں اور اس کے سوا تمہاری باتوں کا اور کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا یہیں تک میں نے رویا دیکھی تھی کہ گھر والوں نے مجھے تہجد کے لئے جگا دیا۔الفضل 22۔جولائی 1950ء صفحہ 5 505 تمبر 1950ء فرمایا : میں نے کوئٹہ کے سفر کے آخری ایام میں دیکھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی سات صفات کا علم دیا ہے ان کے ظاہری خواص کے متعلق بھی اور باطنی خواص کے متعلق بھی اس بارہ میں تقریر میں یا کسی مجلس میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سات صفات کا علم دیا اور میں نے چاہا کہ جماعت اس علم سے فائدہ اٹھا لے مگر باوجو د توجہ دلانے کے جماعت نے اس علم کو سیکھنے کی کوشش نہیں کی صرف ایک شخص نے کچھ توجہ کی لیکن اس نے بھی ایک صفت کے ظاہری خواص تک جانے میں کامیابی حاصل کی اور باقی خواص کی طرف توجہ نہیں کی۔یہ رویا جہاں ذاتی طور پر میرے لئے نہایت ہی مبارک ہے وہاں جماعتی طور پر یہ منذر رویا بھی ہے علوم دو قسم کے ہوتے ہیں ایک اصولی اور ایک کلی اور ایک وقتی اور مقامی۔اصولی اور کلی علوم ذاتی اہمیت کے لحاظ سے سب سے مقدم ہوتے ہیں لیکن شخصی اور قومی فائدہ کے لحاظ سے وقتی اور مقامی مظاہر ان میں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں مثلاً قرآن کریم میں جو اصولی علوم بیان کئے گئے ہیں شان کے لحاظ سے تو وہی اعلیٰ ہیں لیکن ان علوم کے وہ مظاہر جو وقتی اور مقامی ہیں جب تک اس وقت اور مقام سے تعلق رکھنے والی قوم ان سے فائدہ نہیں اٹھاتی وہ کامیاب نہیں ہو سکتی اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کی کامل طور پر وارث نہیں ہو سکتی۔یہ وقتی اور مقامی مظاہر کبھی کبھی پیدا ہوتے ہیں اور مامورین کے قریب زمانہ سے ان کا تعلق ہو تا ہے سب سے بڑی شان