رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 461

461 طرح عشق اور محبت کا آپس میں تبادلہ ہو تا رہتا۔الفضل 22۔جولائی 1950ء صفحہ 5۔4 27 جون 1950ء 504 فرمایا : ایک رویا میں نے آج رات دیکھی ہے یہ رویا نا مکمل رہ گئی کیونکہ تہجد کے وقت مجھے جگا دیا گیا۔میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں اور وہاں ہماری ایک رشتہ دار عورت جو ہمارے مخالفوں میں سے ہے موجود ہے جس کمرہ میں میں ہوں اس کے اندر کی طرف ایک کھڑکی کھلتی ہے اور لوگ باہر بیٹھے ہیں اس نے کھڑکی میں سے جھانکا اور مسکراتے ہوئے اپنے ایک رشتہ دار کا نام لے کر کہا کہ وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے اگر آپ کہیں تو وہ آکر مل جائے اس پر میں نے اس رنگ میں اپنا منہ پرے پھیر لیا کہ گویا میں جواب دینا نہیں چاہتا۔اور میں یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ مجھے ملے۔ایک چار پائی ہے جس پر میں بیٹھا ہوا ہوں اور سامنے ایک دوسری چارپائی پر کچھ اور لوگ بیٹھے ہیں۔اتنے میں میرا وہ رشتہ دار اندر آیا اور میرے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گیا۔اس کے بعد وہ ایک شخص کا نام لے کر کہتا ہے (یہ سارے نام مجھے معلوم ہیں جو بات کر رہے ہیں اس کا نام بھی اور جس کا اس نے ذکر کیا اس کا نام بھی مجھے معلوم ہے مگر میں ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتا) کہ وہ اب متکبر ہو گیا ہے حالانکہ کالج میں ہم لوگوں کے ساتھ پڑھا کرتا تھا اور ہم سے زیادہ ہوشیار نہ تھا اور ہماری اس سے زیادہ قدر ہوا کرتی تھی۔معلوم نہیں اب وہ اپنے آپ کو کیا سمجھنے لگ گیا ہے۔میں نے کہا دیکھو ایسی باتیں کرنا مناسب نہیں۔میں ایسی گفتگو کو پسند نہیں کرتا اور سمجھتا ہوں کہ اس قسم کا ذکر میرے سامنے پسندیدہ نہیں پھر میں نے کہا۔میں اس کے معاملات سے بالکل الگ ہو چکا ہوں اور اس کی بری یا بھلی کوئی بات سننا پسند نہیں کرتا مگر وہ برابر اپنی بات کا تکرار کرتا چلا جاتا ہے۔جب اس نے بار بار یہ ذکر کیا تو میں نے دیکھا کہ سامنے چار پائی پر ایک اس شخص کا دوست بھی بیٹھا ہوا ہے جس کے خلاف وہ گفتگو کر رہا ہے میں اس وقت اپنے اس رشتہ دار کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اس ذکر سے تمہاری غرض سوائے اس کے اور کیا ہو سکتی ہے کہ تم اس شخص پر یہ اثر ڈالو کہ گویا میں نے ہی تم کو بلوا کر مجلس میں باتیں کہلوائی ہیں اور تم اس کو دھو کا میں مبتلاء کرو حالانکہ میں ان باتوں کو سخت نا پسند کرتا ہوں اول تم بغیر میرے بلانے کے خود بخود آگئے اور پھر تم نے ایسی گفتگو شروع کر دی جو سخت ناپسندیدہ ہے اور جس سے