رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 453
453 دکھائی گئی۔وہ بڑے قومی بدن کا اور تن و توش والا آدمی ہے۔اس کا رنگ سفید ہے گول چہرہ ہے اور داڑھی مونچھ بالکل نہیں گویا داڑھی کے لحاظ سے تو وہ دس گیارہ سال کا لڑکا معلوم ہوتا ہے لیکن قد اور جسم کے لحاظ سے وہ ایک نوجوان بالغ مرد معلوم ہوتا ہے۔میں بھی خواب میں عبد اللہ کی بہادری اور اس کی وفاداری پر تعجب اور تحسین کرتا ہوں اس کے بعد میں باغ میں داخل ہونے لگا تو باغ میں سے دو تین آدمی نکلے ان میں سے ایک آدمی جو مجھ سے مخاطب ہو کر بولا در میانے سے کسی قدر چھوٹے قد کا تھا اور سر پر اس نے پشاوری لنگی بندھی ہوئی تھی ، اس نے بڑی حیرت اور تعجب سے مجھے کہا ہم نے جو کنواں لگا یا ہے اسے ہم متواتر کئی دن سے رات اور دن بغیر وقفے کے چلا رہے ہیں لیکن اس کا پانی بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور اس میں کوئی کمی نہیں آتی وہ اس بات کو زور دے دے کر بیان کرتا ہے گویا وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام کا ذکر کر رہا ہے۔اس واقعہ سے پہلے میں اس جگہ کے متعلق یہ خیال بھی نہیں کرتا تھا کہ یہ ربوہ ہے بلکہ محض کوئی جگہ تصور کرتا تھا لیکن جب اس شخص نے یہ باتیں کیں تو اس وقت مجھے یہ خیال آیا کہ یہ ربوہ ہی مقام ہے اور یہ کنواں وہی کنواں ہے جو ربوہ کے مقام پر کھودا گیا ہے اور جس میں ٹیوب یہ ویل نصب کیا گیا ہے۔الفضل 3۔جون 1950 ء صفحہ 4-3 501 20/21 جون 1950ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ ہم قادیان میں اسی دالان میں ہیں جس میں حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام رہا کرتے تھے اور اس میں بجلی جل رہی ہے رات کا وقت ہے مگر ابتدائی رات معلوم ہوتی ہے جیسے مغرب کے بعد کا وقت ہو تا ہے بجلی کی روشنی بہت تیز ہے اس وقت میں نے دیکھا کہ وسط دالان میں گاؤ تکیوں سے سہارا لگا کر ہمارے خاندان کی کچھ مستورات بیٹھی ہوئی ہیں جن میں میں نے اپنی تائی صاحبہ مرحومہ مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی بیوی کو پہچانا وہ اچھے مضبوط جسم کی ہیں جیسے جوانی میں کسی مضبوط اور طاقت ور انسان کا جسم ہوا کرتا ہے ان کی جوانی کا زمانہ تو ہم نے نہیں دیکھا۔ادھیڑ عمر میں ہم نے ان کو دیکھا ہے مگر اس عمر میں بھی وہ بڑی مضبوط اور طاقت ور تھیں اور جس طرح ہمارے خاندان کے تمام افراد بڑے