رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 450

450 بڑا گھنا ہے جیسے برسات کے موسم میں گھنے جنگل والے پہاڑوں پر سایہ ہوتا ہے اسی طرح کا سایہ ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ یا جیسے کسی چھت والے بر آمدہ کے در بند کر کے اندھیرا کیا جائے اسی قسم کی تاریکی وہاں نظر آتی ہے غرض وہ نہایت سایہ دار باغ ہے جس میں دھوپ کی کوئی کرن بھی نہیں پڑتی اس باغ کے درمیان میں سے باہر کی طرف دروازہ جاتا ہے اور خواب میں میں اس جگہ کو اپنا ملک سمجھتا ہوں اور اس سے باہر غیر ممالک سمجھتا ہوں اتنے میں میں کیا دیکھتا ہوں کہ باغ کے دروازہ کے پاس ایک کھڑکی میں سے ایک شخص کھڑے ہو کر آواز دیتا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنے باغ کا دروازہ ہمارے لئے کھول دیں کہ ہم اندر داخل ہوں اور آپ کے باغ کی سیر کریں اور اس کے سایوں میں بیٹھیں اور اس کی ٹھنڈک سے لطف اٹھائیں۔مجھے اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی غیر ملک کا بادشاہ ہے اور یہ صلح کر کے ہمارے ملک میں داخل ہونا چاہتا ہے اور اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور میں یہ خیال کرتا ہوں کہ اگر ہم نے دروازہ کھولا تو پھر یہ زور سے داخل ہو گا اور قہر سے قبضہ کرنا چاہے گا تب میں نے مناسب سمجھا کہ میں خود باہر نکل کے اس سے بات کروں۔میں نے اپنے پیچھے کی طرف دیکھا اور آواز دی کہ ہمارے خاندان کے لوگ مرنے کے لئے میری پیٹھ کے پیچھے کھڑے ہو جائیں گویا میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس سے مقابلہ کرنا پڑے گا اور موت تک مقابلہ کرنا پڑے گا۔اس وقت بہت ہی کم آدمی ہمارے ساتھ ہیں صرف پانچ چھ آدمی نظر آئے جو میرے پیچھے آکر کھڑے ہو گئے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ سارے ہمارے خاندان کے تھے یا کوئی اور بھی تھا اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے ایک جس نے لدھیانی چار خانہ کا کوٹ پہنا ہوا ہے میاں بشیر احمد صاحب ہیں اور کچھ میرے لڑکے ہیں اور کچھ اور لوگ ہیں شاید ہمارے خاندان کے ہی ہیں یا غیر۔بہر حال پانچ چھ آدمی ہیں جو آکر کھڑے ہوئے تب میں نے باغ کا دروازہ کھول دیا اور اس بادشاہ سے بات کرنے کے لئے باہر نکلا اس وقت میں نے اپنے ہاتھ میں ایک باریک شنی درخت کی پکڑی ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں اس کے ساتھ اس بادشاہ کی اس فوج پر حملہ کروں گا وہ ایک کھدار شمنی ہے۔ایک انگلی کے برابر موٹی اور کوئی ڈیڑھ گزلمبی جس کے سرے پر کچھ پتے بھی ہیں میں نے دیکھا کہ بادشاہ ہمارے دروازہ کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کے پیچھے میرے ہمرا ہی ہیں آج کل کی فوج کی قسم اس کے ساتھ نہیں بلکہ جیسے پرانے زمانہ میں یورپ کے بادشاہوں کے ساتھ ٹائٹ ہوتے