رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 447

447 روانہ ہو گئی ہے۔میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ میں تو کبھی ریل سے رہا نہیں اور دوسرے لوگ جو مایوس ہو گئے تھے ان سے میں نے کہا کہ چلو ریل آگے چل کے ضرور کھڑی ہو جائے گی چنانچہ میں ان کو لے کر سٹیشن کی طرف روانہ ہوا تو معلوم ہوا۔ریل واقعہ میں تھوڑی دیر چل کے کھڑی ہو گئی ہے جب میں ریل کے پاس پہنچا تو بعض کمروں میں داخل ہونے سے معلوم ہوا کہ ٹرین کے کمرے اس طرح کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں کہ کسی آدمی کی گنجائش نہیں تب میں حیران ہو کے سڑک پر کھڑا ہو گیا کہ اب میں کیا کروں میں اسی طرح کھڑا تھا کہ مکرم شیخ فضل دین صاحب سابق تاجر ڈلہوزی حال لاہور پر میری نظر پڑی وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے سے پوچھا کہ میں اس طرح کیوں کھڑا ہوں میں نے ان کو حال بتایا تو وہ کہنے لگے کہ میں جا کر آپ کے لئے جگہ تلاش کرتا ہوں چنانچہ وہ ریل کے مختلف کمروں میں گئے پھر انہوں نے مجھے بلایا جب کمرہ میں داخل ہوا تو وہ ایک سیلیون نما کمرہ ہے لیکن عام کمروں سے بڑا۔اس میں صفائی کچھ زیادہ اچھی نہیں مگر جگہ ہے۔میں اس کی صفائی کی وجہ سے کچھ متردد سا تھا کہ اتنے میں مکرمی شیخ رحمت اللہ صاحب رئیس لاہور چھاؤنی کہ ان کی بھی جائیداد ڈلہوزی میں تھی اور وہیں سے ہماری واقفیت ہوئی نظر پڑے۔شیخ صاحب نے ان سے کہا کہ ان کو اچھی جگہ نہیں ملتی آپ ان کے لئے کوئی اچھی سی جگہ تلاش کریں۔جناب شیخ رحمت اللہ نے اور کمرے دیکھے اور پھر مجھے ایک نہایت اچھے سے کمرے میں لے گئے کہ یہاں آپ بیٹھ سکتے ہیں وہ کمرہ زیادہ اچھا اور صاف اور عمدہ ہے اور اس وقت کوئی آدمی بھی اس میں نہیں میں اس کمرہ کو دیکھ ہی رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 3۔جون 1950 ء صفحہ 3 497 ابریل 1950ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میری لڑکی امتہ النصیر بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ نے ناک میں ایک لونگ پہنا ہوا ہے۔یہ زیور ہمارے ملک سے اب قریباً اڑ گیا ہے۔پہلے اس کا بہت رواج تھا وہ لونگ بہت بڑا ہے اور اس کانگ اس شکل کا ہے کہ جیسے ستارے بنائے جاتے ہیں لیکن ستارے تو چار گوشہ بنائے جاتے ہیں وہ شش گوشہ ہے اور وہ تنگ جو ستاروں کے گوشوں میں لگے ہوئے ہیں نہایت روشن چمکدار اور سفید ہیں اور عام نگوں سے مختلف ہیں۔الفضل 3۔جون 1950 ء صفحہ 3