رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 434

434 لگے ہیں غالبا ایک منٹ بھی نہیں گزرا لیکن اتنے میں معلوم ہوتا ہے کہ لڑائی ختم ہو گئی ہے اور دشمن بھاگ گیا ہے لیکن ہمارے بہت سے احمدی شہید ہو گئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خیریت سے ہیں اور ان کے پاس حضرت اماں جان) (مد ظله العالی) کھڑی ہیں اس وقت میری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ میرے اکثر لڑکے اور داماد مارے گئے ہیں اور میری طبیعت میں اس پر کچھ رنج محسوس ہوا لیکن معا میرے دل میں خیال آیا کہ اس سے زیادہ خوش قسمتی کیا ہوگی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حفاظت میں مارے گئے ہیں اور میں نے وہ جذبات وبا لئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ ان کا انجام ایسا اچھا ہوا ہے۔پھر میں نے حضرت (اماں جان) (مد ظله العالی) کو مخاطب کر کے پوچھا کہ کتنے مارے گئے ہیں تو انہوں نے تیرہ یا چودہ کا لفظ بولا ہے ان کی طبیعت پر بھی اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی افسردگی کا اثر نہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ یہ قربانی نهایت اچھی اور عمدہ ہے پھر انہوں نے ایک اور بیٹے کا نام لے کر کہا کہ اس کے بھی دو بیٹے مارے گئے ہیں اور وہ ماتھے پر ہاتھ رکھے بیٹھا ہے اور یہ سمجھ رہا ہے کہ اتنا نقصان کسی اور کا نہیں ہوا۔یہ فقرہ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا ہے کہ گویا اس نے اس قربانی کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔معلوم ہوتا ہے کہ ان چند سیکنڈوں میں ہی کہ جن میں لڑائی ہوئی اور لوگ مارے گئے فرشتوں نے ان کی لاشیں اٹھا کر مسجد مبارک میں رکھ دی ہیں۔میں نے غالبا حضرت اماں جان) (مد ظله العالی) سے ہی پوچھا کہ ان کی لاشیں کہاں ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ان کو دیکھ لوں تو انہوں نے اشارہ کیا کہ مسجد مبارک میں پڑی ہیں۔اس پر میں مسجد مبارک میں گیا اور میں نے دیکھا کہ وہاں لاشوں کے ڈھیر پڑے ہیں اور لاشیں اس طرح اوپر نیچے رکھی ہوئی ہیں جس طرح کھالیں رکھی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ تین سو سے زیادہ لاشیں معلوم ہوتی ہیں۔میں خواب میں حیران ہو تا ہوں کہ مارے تو پندرہ میں گئے تھے لیکن لاشیں تین سو سے اوپر ہیں۔یہ کیا بات ہے اس سوال کا جواب میں خود ہی دیتا ہوں کہ تیرہ چودہ یا پندرہ آدمی تو شاید ہمارے خاندان کے ہیں اور باقی دوسرے احمدی لیکن میں خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائی کہ ہم نے قربانی کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات کی حفاظت کی اور میں کہتا ہوں کہ اس سے زیادہ کیا خوش قسمتی ہوگی کہ ہم نے جان قربان کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بچا لیا اس وقت میں نے دیکھا جیسے فرشتوں نے مسجد سے لاشیں اٹھا کر کسی اور