رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 39

39 گھبراہٹ میں پکار پکار کر اس طرح کہنا شروع کیا اللهُمَّ اهْتَدَيْتُ بِهَدْيِكَ وَ أَمَنْتُ بِمَسِيحِكَ اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوڑے چلے آتے ہیں اور گو یا لوگوں سے فرماتے ہیں کہ یہی فقرہ پڑھو تب تم اس عذاب سے بچ جاؤ گے۔مجھے حضرت مسیح موعود نظر نہیں آتے لیکن یہ میرا خیال تھا کہ آپ لوگوں کو یہ فرما رہے ہیں۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ پانی کم ہونا شروع ہوا اور چھت یلی کیلی نظر آنے لگی اسی گھبراہٹ میں میری آنکھ کھل گئی۔یہاں ایک عرب رہتا ہے اس نے بھی آج ہی اپنی خواب لکھ کر مجھے دی ہے اور وہ یہ کہ میں کہیں جا رہا ہوں اور چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے اور کوئی جگہ خالی نہیں۔ہر طرف سے شعلے اٹھ رہے ہیں۔مجھے دو خوبصورت آدمی ملے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ تو کد ھر جا رہا ہے جہاں تو بیٹھا ہوا تھا وہیں بیٹھ جا۔انہوں نے مجھے ایک قرآن اور ایک سیب دیا ہے اور کہا ہے کہ جاؤ یہ سیب خلیفۃ المسیح کو دے دو اور اسے اسباب میں لپیٹ کر رکھ دو تا کہ خشک نہ ہو جائے۔الفضل 13 - دسمبر 1914ء صفحہ 7 والفضل 2۔نومبر 1918ء صفحہ 8 فرمایا : میں اس سے یہ نتیجہ نکالا کرتا تھا کہ اس رویا میں جس عذاب کا ذکر ہے وہ اسی وقت آئے گا جب چوہدری فتح محمد صاحب ہندوستان میں ہوں گے۔(مکرم چوہدری فتح محمد صاحب اس وقت انگلستان میں تھے۔ناقل ) الفضل یکم مئی 1942ء صفحہ 8 فرمایا : پہلے تو میں سمجھا کرتا تھا کہ یہ رویا شائد انفلوئنزا کے متعلق تھا مگر اب اس طرف خیال جاتا ہے کہ شائد احرار کا فتنہ اس سے مراد ہو۔الفضل 10 مئی 1944 ء صفحہ 4۔مزید دیکھیں۔الفضل 7 اکتوبر 1918 ء صفحہ 4 ( مختصراً ) 3 مارچ 1948ء صفحہ 6 اور حقیقتہ الا مر صفحہ 4 62 $1914 فرمایا : میں نے ایک رویا میں دیکھا کہ ایک بڑا شخص ہے اس کی شکل مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی سے ملتی ہے اور وہ پاگل ہو گیا ہے۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ ابلیس حملہ کرتا ہے میں بار بار لاحول پڑھتا ہوں وہ رکتا نہیں۔آخر اَعُوذُ پڑھا تو وہ دور ہوا۔الفضل 17 جنوبی 8,1921