رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 423
423 مضمون نازل کر کے اللہ تعالی نے خوش خبری عطا فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لئے غم ظاہری ہوتا ہے خوشی باطنی ہوتی ہے جس طرح کہ اللہ تعالٰی سے دور بندوں کی خوشی ظاہری ہوتی ہے مگر غم باطنی ہو تا ہے۔الفضل 19۔دسمبر 1948ء صفحہ 4 31۔دسمبر 1948ء 471 فرمایا : آج آدھی رات کے قریب اچانک میری آنکھ کھل گئی اور میں جاگ اٹھا اور کچھ دعائیں وغیرہ کرتا رہا اسی حالت میں جبکہ میں جاگ رہا تھا اور غنودگی وغیرہ کی حالت نہیں تھی مجھے ایک آواز آئی جو کافی بلند تھی۔کسی نے کہا السلام علیکم۔یہ آواز اس طرح واضح تھی اور اتنی بلند تھی کہ واہمہ کے کسی گوشہ میں بھی یہ خیال نہیں آسکتا تھا کہ یہ کوئی کشفی یا الہامی آواز ہے بالکل ایسی ہی آواز تھی جیسے کوئی سمجھتا ہے کہ اسے کوئی آواز دے رہا ہے۔میں نے خیال کیا کہ غالبا میری آنکھ کھل گئی ہے۔نماز کا وقت ہے اور کوئی شخص مجھے نماز کی اطلاع دینے آیا ہے۔میں نے وعلیکم السلام کہا اور پوچھا کون ہے۔مگر کون ہے کا کسی نے جواب نہیں دیا پھر میں نے دوبارہ کہا کون ہے۔مگر پھر بھی کوئی شخص نہ بولا تب میں نے سمجھا کہ در حقیقت یہ الہامی آواز ہے اور میں نے اسے ظاہر پر محمول کیا ہے پھر معلوم ہوا کہ اس وقت آدھی رات کا وقت ہے اور اس وقت کسی کے آنے کا امکان ہی نہیں ہو سکتا تھا۔اس قسم کے السلام علیکم کا معاملہ میرے ساتھ پہلے بھی بعض دفعہ ہوا ہے مگر نیم خوابی اور غنودگی کی حالت میں لیکن اس قسم کا نظارہ میں نے پہلی دفعہ دیکھا ہے اس وقت میں اتنا جاگ رہا تھا کہ میرے واہمہ میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ یہ غیر معمولی نظارہ ہے اس رات بھی میں بہت دعا کر کے سویا تھا اور اس نظارہ سے خدا تعالیٰ نے اس امر کے لئے جس کے لئے میں نے دعا کی تھی یا کسی اور امر کے لئے حفاظت اور سلامتی کا اشارہ فرمایا ہے۔الفضل 6۔اپریل 1949ء صفحہ 3 472 اوائل فروری 1949ء فرمایا : مجھے سیالکوٹ میں ہی ایک رویا ہوا ہے میں نے رویا میں دیکھا کہ گویا میں قادیان میں ہوں اور قادیان میں بھی اس کمرہ میں ہوں جس میں ابتدائی ایام میں ہماری پیدائش سے بھی پہلے